تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 29 of 736

تحدیث نعمت — Page 29

۲۹ کا ننگی کسی اجنبی انگریز کے ساتھ بات کرنے کا بھی تجربہ نہیں تھا۔بہر حال نترسال و لرزاں لیکن بفضل الله بغیر کسی چوک کے اور بغیر کسی تفضیع اوقات کے میں ریل پر ویسٹ منسٹر اور وہاں سے پیدل انڈیا آفس پہنچ گیا۔جب میں نے انڈیا آفس کو وہیں پایا جہاں میں اپنے اندراندے سے قیاس کر چکا تھا تو مجھے ایسا اطمینان ہوا کہ گویا میں نے انگلستان میں اپنا پہلا امتحان پاس کر لیا ہے۔سر ٹامس آرنلڈ کی چھٹی چپڑاسی کے حوالے کی اور میں انتظار کے کمرے میں بیٹھ گیا۔وہاں تین سکھ صاحبان دیہاتی لباس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ایک صاحب آئے اور ان سے انگریزی میں بات کرنے لگے۔انہوں نے عذر کیا کہ وہ انگریزی نہیں سمجھتے۔وہ صاحب کچھ پریشان ہوئے اور میری طرف دیکھ کر کہا شاید تم ان صاحبان کی زبان سمجھتے ہو میرا اثباتی جواب سنکہ کہا کہ تم مہربانی سے انہیں میری بات سمجھا دو گے ؟ میری ترجمانی سے جو بات واضح ہوئی وہ یہ تھی کہ وہ صاحبان لدھیانے کے ضلع کے کاشت کار تھے۔ان دنوں پنجاب کی آبادیا میں زمین تقسیم ہو رہی تھی۔انہوں نے بھی درخواست دی مگر انہیں زمین نہ ملی۔گاؤں میں سے کسی نے عمرزی یا عناد سے انہیں مشورہ دیا کہ لندن با کروز یہ ہند سے شکایت کرو وہ تمہیں زمین دیئے جانے کا حکم دیا ہے یہ لوگ بھوٹے پن میں اپنی اراضیات گروی رکھ کر یا بیع کرکے اور اس طرح لندن پہنچنے کا خرج مہیا کرکے لندن پہلے آئے اور یہاں پہنچ کر وزیر بند کی خدمت میں درخواست گزار دی۔یہ صاحب انہیں سمجھانا چاہتے تھے کہ دور یہ مہند اس معاملہ میں دخل نہیں ہے سکتے۔اتنے میں مجھے اطلاع ملی کہ میرے معائنہ کیلئے سر جن جنرل برین فٹ کی صدارت میں تین بجے بعد دو پہر بورڈ منعقد ہو گا۔اس وقت قریباً بارہ بجے تھے ،اگر مجھے لندن کے گلی کوچوں اور راہ درسم سے کچھ واقفیت ہوتی تو میں کہیں قریب ہی دو پہر کا کھانا کھالیتا اور پارک میں پل بھر کے بقیہ درمیانی وقت گذار لیتا۔لیکن مجھے ان امور کی کچھ بھی واقفیت نہیں تھی ساتھی یہ فکر بھی تھی کہ مالک مکان اور میرے ساتھی انتظار میں ہونگے اور میرے وقت پر نہ پہنچنے سے پریشان ہونگے۔میں نے پھر ویسٹ منسٹر سٹیشن کا رستہ لیا وہاں سے ہر سمتھ کبراڈوے تک ریل میں آیا اور وہاں سے پیدل مکان تک پہنچا۔مکان سے سٹیشن تک تیز تیز چلنے والے کے لئے دس منٹ کا وقت درکار تھا۔میرے مکان پہنچنے تک کھانے کا وقت ہو چکا تھا اور کھانا شروع ہوگیا تھا۔مالکہ مکان مستر فنانسن نے مجھے شفقانہ تنبیہ کی اور میں مناسب معذرت کر کے اپنی جگہ پہ بیٹھ گیا۔بینائی کے لئے طبی بورڈ کا معائنہ۔کھانے سے فارغ ہوتے ہی میں واپس انڈیا آفس پہنچا۔ابھی تین بجنے میں چند منٹ باقی تھے۔پورے تین بجے مجھے بورڈ کے کمرے میں بلایا گیا اور معائنہ ہوا۔آخری مجھے بتایا گیا کہ ایک تو تمہارا وزن کم ہے اور عام صحت بھی کچھ کمزور ہے لیکن یہ کوئی فکر کی بات نہیں تم اپنے گھر "