تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 424 of 736

تحدیث نعمت — Page 424

۴۲۴ یورپ کے سب ممالک ہٹلر سے خائف تھے۔اور کوئی ایسا کہ منہ سے نہیں نکالنا چاہتے تھے جس کے ٹیلہ کی لہ طبع نا زک پر گراں گذرنے کا استعمال ہو۔میں اس کیفیت کو دیکھ کر حیران ہوا اور کچھ رتی بھی ہوا اور میں نے مسٹر ٹلہ سے کہا کہ میں تو صاف صاف بات کروں گا انہوں نے فرمایا کہ خدا کیلئے ضرور کرنا کیونکہ ماری تو ہمت نہیں پڑتی ( FOR HEAVENS SAKE DO FOR WE DARE NOT“ چنانچہ جب میری باری آئی تو میں نے پہلے فنلینڈ اور روس کا سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی موازنہ کیا پھر دوس کی بلا وجہ اور راسر زیادتی کاتذکرہ کیا اور کون کی تجوید کی پر زور تائید کی اور آخر میں کہا صاحبان اس مسئلے پر لازم ہے کہ آپ سب یک بہتی اور اتفاق کے ساتھ ہرقسم کے ظلم اور زیادتی کے خلاف آواز اٹھائیں اور مناسب اقدام کریں۔اگر آپ سب ملکہ اب نہیں کریں گے تو آپ کو ایک ایک کرکے کچل دیا جائیگا۔اور تہذیب اور اخلاق کی شمع صدیوی کیلئے گل ہو جائے گی۔معلوم ہوتا ہے اسمبلی کے صدر مسٹر ہیرو جو ناروے کے نمائندے تھے میری بے باکانہ حجرات سے خوفزدہ ہو رہے تھے۔مجھے روک تو نہیں سکتے تھے لیکن بعد میری تقریر ختم ہوئی تو انہوں نے ترجمان سے کہا قواعد کے تحت ساری تقریر کا ترجمہ کرنا لازم نہیں صرف خلاصہ بیان کردینا کافی ہے۔کون کی تجویز منظور ہوئی اور دس لیگ آف نیشنز کی رکنیت سے خارج کیا گیا سر آغا خان نے بعد میں مجھے بتایا کہ سوئٹزر لینڈ کے نمائندے نے ان سے کہا کہ سا ہے اجلاس میں کام کی تقریہ ہندوستان کے نمائندے کی ہی تھی۔اتفاق کی بات ہے کہ جب جنگ کے ابتدائی اقدامات کے بعد میٹر کی انواج نے حرکت شروع کی تو ان کا سب سے پہلا شکار نا روسے ہی ہوا۔میں جب میں پہلی بار پاکستانی وفدکے ساتھ اقوام متحدہ کی سمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک یا تو ہمارا قیام با سکلے ہوٹل میں ہوا۔دوستیہ دن میں ہوٹل کے ایوان استقبال میں کھڑا تھا ر ہیمر و تشریف لائے۔وہ ناروے کے وفد کے رکن تھے اور اس وقت ہوٹل میں پہنچے تھے۔بجب ہوٹل میں داخلے کی رسوم سے فارغ ہوئے تومیں بڑھ کر آداب بجا لایا اور کہا مجھے آپ سے معافی طلب کرنا ہے کیونکہ آٹھ سال قبل جینیوا میں میں آپ کی پریشانی کا باعث پورا تھا۔انہوں نے فرمایا نہیں نہیں وہ بھی عجب وقت تھا اور تم بہت ٹھیک کہ رہے تھے۔بجنیوا سے فارغ ہو کہ مسٹر ٹامنس اور انور احمد تواندن واپس چلے گئے اور میں ڈیل سے مائیکی گیا وہاں سے میں ہوائی کشتی پر دلی واپس پہنچ گیا۔وائسرائے کی کونسل میں دوبارہ تقریر فروری کے آخر میں وائسرائے نے مجھے لکھا کہ وہ ملک معظم کی خدمت میں میرے دوبارہ تقریر کی سفارش کرنا چاہتے ہیں اور دریافت فرمایا کہ مجھے اس پر کوئی اعیری تو نہیں ؟ میں نے جواب میںان کا شکریہ ادا کیا اور کھال میں خوشی رضامند ہوں۔چنانچہ ملا منظم کی