تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 406 of 736

تحدیث نعمت — Page 406

۴۰ کرنا ہو گا۔اس سے ظاہر ہے کہ وائی لیے اپنی ضد پر قائم ہیں اور مجھے استعفے در کیا مشورہ دیتے ہیں ؟ یہ تو بڑی مشکل صورت ہوگئی۔میں نے کہا کنور صاح آپ تو ہمیشہ ہر معلم کا ذکر میرے ساتھ فرما دیاکرتے ہیں کریہ معاملہ ایسی اہم صورت اختیار کر رہا تھا تو نے مجھ سے ذکر کیا ہوتا ت میں مناسب مشورہ پیش کرتا اور یہ تی۔آپ کا موقف تو صحیح ہے بلکہ میری رائے میں تو ان دونوں اسامیوں پر بسند دوستانیوں کا تقرینہ ہونا چاہئیے۔زراعتی دیسی آج کونسل کا وائس چیر مین تو مدت سے مہندوستانی ہوتا آرہا ہے۔خود وائسرائے کو زراعت سے بہت دلچسپی ہے جس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ خود اس عہدے پر موزوں اور ہمدرد ہندوستانی کے تقریر کے تھی میں ہوتے۔آج یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ ایس ہندوستانی میسر نہیں آسکتا۔ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل انڈین میڈیکل سروس کے عہدے پر بھی ایک مرتبہ ہندوستانی کا تقرر ہو چکا ہے۔اور پالیسی کے لحاظ سے انڈین میدانتل سروس کے مرکزی ادارے میں ایک سہندوستانی کا ہونا اگر لازم نہیں تو مناسب ضرور ہے اور اب متعدد ہندستانی افسر اس عہدے کے لئے موزوں ہیں۔آپ کے موقف کا مرید ہوتے ہوئے میں آپکو ضرور ایسا مشورہ دنیا میں واٹر آئے پر زور بھی پڑتا اور استعفیٰ کا سوال بھی پیدا نہ ہوتا۔سر جگدیش پرشاد - یہ کوتاہی تو ضرور ہوئی لیکن اب کیا صورت ہو ؟ ظفر اللہ خاں۔اب بھی مجھے تو اطمینان ہے کہ آپکو استعفی دینا پڑے گانہ وائسرائے کی بات مانا پڑے گی زراعتی کونسل کا وائٹ پیر من تو ہندوستانی ہی ہوگا۔چاہے انڈین میڈیکل سروس کا ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل یورپین ہو جائے۔آپ ہر گنہ پریشان نہ ہوں۔سہ جگدیش پر شاد۔لیکن بھائی ہمیں بھی تو اپنے اطمنان کی کوئی وجہ تنہا۔آج تو واٹس ایے بالکل پختہ معلوم ہوتے تھے۔ظفر اللہ خاں۔کنور صاحب میرے اطمینان کی دستہ یہ ہے کہ ایک ہندوستانی رکن کو نسل کا اس مرحلے یہ ایک ایسے اختلاف کی وجہ سے استعفی دنیا کوئی معمولی بات نہیں لہذا بغیر وزہ یہ سند سے مشورہ کیئے دائرا سے آخری فیصلہ نہیں کریں گے اور وزیر جن ہر گز تیار نہیں ہوں گے کہ پبلک پریس میں اور پھر یہ طانیہ میں اسبات کا مشورہ ہو کہ ایک ہندوستانی رکن کونسل نے اسلئے کونسل کی رکنیت چھوڑ دی کہ وائسرائے موزوں ہندوستانیوں کی موجودگی میں ان عہدوں پر لیور میں اشخاص کے تقریر پر مصر تھے۔اگر خدانخواستہ میرا اندازہ غلط ثابت ہوا اور آپکو ان بات کو پورا کرنے کیلئے استعفے دنیای پرا تو آپ کا بیان میں تیار کروں گا جس کے شائع ہونے کے بعد وائسرائے کا یہاں رہنا بھی مشکل ہو جائے گا۔آپ کیلئے یہ امر علی کا موجب نہ ہو لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ نوبت نہیں آئے گی۔آپ اطمینان اور صبر سے