تحدیث نعمت — Page 361
پیدا نہ ہو جائیں کہ تم بغیر اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنے کے خدمت عامہ کو جاری نہ رکھ سکو استعفے کا خیال مت کرو میں نے گرنے سے کہ دیاہے کہ جہان واقعات کا سوال ہے میں ہراس بات کوصحیح سمجھوں گا تو تم اپنے ذاتی علم سے بیان کرو۔اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ تم بھی کسی پلک تحقیقات پر زور نہیں دو گے۔میں نے کہا میں آپ کی ہمدردی کا منون ہوں۔پبلک تحقیقات کا رستہ اگر بند ہے تو ایک اور دروازہ کھلا ہے ہم اسے کھٹکھٹاتے چلے جائیں گے اور الالعین سے داد خواہ رہیں گے۔پولیس کی تفتیش کا نتیجہ یہ نکلا کہ میرے بھائی اور ڈسکہ کلاں کے حملہ بالغ احمدی افراد کا اس الزام کے تحت چالان کردیا گیا کہ نہوں نے بلوہ کرکے احرار پر حملہ کیا اورانہیں ضربات پہنچائیں۔اس بہلوے اور حملے کا مقام اور وقت فرضی تجویز کئے گئے اور اصل واقعہ کا پولیس کی تفتیش اور رپورٹ میں ذکر تک نہ آیا۔چالان ایک غیر مسلم میٹرٹ کے سپرد ہوا جس نے مکمل تحقیقات کے بعد قرار دیا کہ پولیس کی پیش کردہ کہانی فرضی اور بے بنیاد ہے۔پولیس نے فرضی ابتدائی رپورٹ درج کی اور جعلی ضمنیات تیار کیں جن پر ہرگز اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ملزمان کو غیرفرد جرم عاید کرنے کے المتزام سے بری قرار دیا گیا فالحمد لله مجسٹریٹ کے اس حکم کے بعد انسپکٹر جنرل پولیس نے ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کو محکمانہ تحقیقات کا حکم دیا کہ مجسٹریٹ نے جو الزام پولیس پر عاید کئے ہی ان کی کوئی بنیاد ہے یا نہیں۔اب گویا ایک طور سے بیچارے مجسٹریٹ صاحب زیرہ الزام آگئے۔اس تحقیقات میں مجسٹریٹ نے اپنے پہلے حکم سے بڑھ کر پولیس کے رویہ پر تنقید کی اور ان کی کوتاہوں ور فرضی اور اعلی کاروائیوں کا پردہ فاش کیا اس تحقیقات کانتیجہ صفیہ کا کہ مقامی پولیس اس کا ا سکے سے تبادلہ کردیا گیا۔واٹس اے نے مجھ سے کہا تمہارا موقف کا مل طور پر درست ثابت ہوا۔194ء میں سر پر بیٹ کے دو بارہ گورنہ پنجاب مقر ہونے کا اعلان ہوا۔لیکن انہیں دوسری مرتبہ اس کرسی پر بیٹھنا نصیب نہ ہوا۔وہ اپنی پہلی میعاد کے اختتام پر رخصت پر انگلستان گئے۔ان کی رخصت کے دوران میں مٹی شہ میں مجھے بھی بعض سرکاری امور اور فرائض کی سرانجام دہی کے لئے انگلستان جانا پڑا۔وہاں لارڈ ولنگڈن نے مجھے بتایا کہ سرسر ریٹ اور بارہ مینا کی گوریزی کا چارج لینے کے لئے واپس نہیں جاسکیں گے۔معلوم ہوا وہ واپس جانے کی تیاری میں تھے کہ ایک دن سیر سے واپس آنے پر انہیں قضا صاحبت کے ساتھ خون آیا۔انہوں نے ڈاکٹروں سے مشورہ کیا ڈاکٹر درجہ تو تشخیص نہ کر سکے لیکن چونکہ تکلیف جاری تھی انہوں نے مشورہ دیا کہ ان کا مہندوستان واپس جانا نخطرہ سے خالی نہ ہو گا۔چنانچہ انہوں نے وزیمہ سند کو اطلاع دیدی کہ وہ گور ندی پر واپس نہیں جا سکتے۔اس کے کچھ دن بعد وہ تکلیف بالکل رفع ہوگئی۔لیکن اسوقت تک کسی اور کا تقر مون کا تھا۔