تحدیث نعمت — Page 320
۳۲۰ پر موجود تھے ساتھ جا کر تمہیں کار میں بٹھایا اور رخصت کیا۔پردیس میں ریل کے عملے کی طرف سے یہ خوش انطلاقی کا سلوک میرے لئے بہت ہی خوشگوار تجربہ تھا۔اپنے دیس میں تو کسی کو ماہر ی فکریہ ہوتی۔وطن واپسی پر میں نے دور جدید کیلئے ایک مضمون دوئیں اور پر دیسی لکھا۔جس میں پردیس میں ریلوے سفروں کے خوشگوار تجربات کا دلی کے ناگوار تجربات کے ساتھ موازنہ کیا۔جب سلام میں میر مرکزی وزیر موسکا اعلان تھا اور بیان کیا گیا کہ تجارت اور ریلوے کا قلمدان میرے سپرد ہو گا تو یک انگریزی اخبار نے میرے اس مضمون کا انگریزی ترجمہ شائع کیا اور نوٹ لکھا کہ اب ہم دیکھیں گے کہ یہ اپنے زمانے میں کن اصلاحات کو جاری کرتا ہے ؟! لارڈ بلیز برگ اور بلیز بر حسب معمول بڑی تو ان سے پیش آئے اور ہم اسے دودن ان کے پال شہری مسرت میں کئے کارڈ بلیز برگ کا انداز گفتگو استقدیر دلچسپ تھا کہ ان کے ہوتے کسی اور کی موجودگی کی ضرورت محسوس نہ ہوتی تھی زبان نہایت ستری معلومات کا ذخیرہ اتنا وسیع کا سلسلہ کلام جاری رکھنے کیلئے موضوع تلاش کر نیکی ضرورت نہ ہوتی بات سے بات نکلتی چلی آئی بعض وضع سلسلہ کلام مذہب کی طرف ہو جاتا انہوں نے شروع میں ہی مجھے بتا دیا تھاکہ وہ کسی خاص عقیدے کے ساتھ وابستہ نہیں ہیں۔وہ گریجے جانےکے عادی نہ تھے۔فنون لطیفہ میں مصوری، موسیقی اور رنگین شیشے کی صنعت ( STAINED GLASS STAINEO) سے بہت دیسی لیتے تھےایک کثیر تم خرچ کرکے انہوں نے دیجیلسی کے گرتے کی دو کھڑکیوں کو رنگین شیشے STAINED) سے مزین کر دیا۔ان کے دور بھتیجے پہلی عالمی جنگ میں کام آئے تھے ایک یک کر ایک یا ایک ایسی کھڑکی کی لال بوٹ کے انوکی یا کویر یا وی ہونا ایک ایوان میں پھنسے تو ایک جہارکے اروں کی جانی با کی روشنی میں ان میں ان کی نذر کردیتی تعداد اس گیت کی بنا کر کیوں کو یا رات کے شیشے سے مزین کرا دیا۔ان کھڑکیوں کی رسم افتتاح بھی بڑی شان سے کی گئی اس سارے منصوبے پر انہوں نے پچھتر ہزار پونڈ صرف کئے ان کھڑکیوں کو دیکھنے کیلئے دور دور سے زائرین ریچلیسی جاتے ہیں۔مصوری کے فن سے بھی انہیں بہت دلچی بھی نو جوان مصوروں کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے جب انہوں نے د خپلیسی کا سب سے بڑ امکان گریے فرائد نہ خرید لیا تو اس کی مرمت اور نیب زنیت پر ایک کثیر تم خرچ کی۔اس مکان اور ان کے لندن کے مکان کے کمروں کی دیواریں مصوری کے اعلیٰ اور ادنی نمونوں سے ڈھکی ہوئی تھیں جودہ مصوروں کی ہمت افزائی کیلئے خریدتے رہتے تھے۔اپنے ملازموں کے ساتھ ان کا سلوک بنات مشفقانہ تھا۔انہیں کسی کام کو کہتے تو لفاظ اور لہجے سے ایک معلوم ہوتا کہ انکساری سے ان سے عنایت طلب کر رہے ہیں۔ایک بار میں ان کے ہا ٹھہرا ہوا تھا شام کے کھانے کے بعد سیٹنگز میں ایک کنسرٹ میں جانے کا ارادہ کیا۔مجھے بھی ساتھ چلنے کو کہا ٹیلیفون پر تین ٹکٹوں کا انتظام کیا۔میں سمجھا کسی اور مہمان کو بلانے کا ارادہ ہو گا لیکن شنگن تک صرف میں ساتھ تھا وہاں پہنچنے پر ایک ٹکٹ جیک اپنے ڈرائیور کو دیا اور کہا کا نسٹ ختم ہونے پر اطمینان سے کار دیوانے۔۔کی طرف لے آنا ہم تمہارا انتظار کریں گے یہ گرے فرائرز میرے لئے وطن سے اور اپنے گھر سے دور سے گھر بار ہا میں جب |