تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 291 of 736

تحدیث نعمت — Page 291

کی سیاسی طاقت اور جمعیت کو کر دی کہ نیکے درپے تھی میرے مسلم لیگ کی صدارت کرنے کے خلاف جماعت احرارا اور دیگر مخالف عناصر نے عوام کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی یہ کوشش تو نعرہ باندی اور فساد کی دھمکیوں سے آگے بڑھنے نہ پائی لیکن اصل کمزوری سلم قیادت میں اختلافات، با کمی شکر رنجیاں ، اور رزق نہیں تھیں جن کے نتیجہ میں قوم میں ایک حد تک سیاسی جمود پیدا ہو گیا تھا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس نئی دہلی میں ہوا۔خطبہ صدارت پڑھا گیا، تقریریں ہوئیں ، تجاو نہ پاس ہوئیں ، لیکن سیاسی فضامیں کوئی بیجان پیدانہ ہوا یشہ کے اول نصف میں بحیثیت صدر مسلم لیگ میری یہ کوشش رہی کہ آل پارٹیز سلم کانفرنس کا مسلم لیگ میں ادغام ہو جائے اور اس کے کچھ مکانات بھی پیدا ہوگئے لیکن سال کے وسط میں میاں فضل حسین صاحب کے رخصت پر جانے کے سلسے میں ان کی جگہ میرا عار من ق م میں آیا اور مجھے لیگ کی صدارت سے متعفی ہونا ہے اور یہ تحریک رک گئی۔دو ایک سال کے اندر آل پارٹیز سلم کا نفرنس کی سرگرمیاں سرد پڑ گئیں اسلم کی ازسرنوتانہ کی پکڑنے لگی۔موٹر کار کا حادثہ سمر استاد میں کرسمس کی تعطیلات کا اکثر حصہ مں نے لاہور کی والدہ صاحبہ کی خدمت میں گذارا کچھ عرصہ قبل والدہ صاحبہ نے میرے متعلق ایک خواب دیکھا تھا جس کے لئے مجھے ارشاد فرمایا کہ حضرت صاحب کی خدمت میں تحریر کر کے تغیر دریافت کردہ میں نے تعمیل ارشاد کی۔حضور نے فرمایا پہلے کوئی جسمانی تکلیف پہنچے گی اس کے بعد دنیا او مرتبے میں بلندی ہوگی۔اس دسمبر کی سہ پہر کو والدہ صاحبہ کے ساتھ چائے پر سید النعام اللہ شاہ صاحب نے مجھے آہستہ سے کہا والدہ صاحبہ بہت افسردہ نظر آتی ہیں اس کا سبب دریافت کرو۔میں والدہ صاحبہ کے بالکل قریب بیٹھا تھا۔لیکن مجھے ان کا چہرہ نظر نہیں آتا تھا۔جب میں نے ان کی طرف دیکھا تورف اسے آنسو پونچھو رہی تھیں۔میں نے سبب دریافت کیا۔فرمایا کوئی خاص بات نہیں کل تم دلی ہار ہے ہو اسلئے طبیعت افسردہ ہے۔میں نے عرض کیا آپ سے ساتھ تشریف لے چلیں فرمایا اس وقت تو تم جاؤ میں بعد میں آجاؤں گی۔یکم جنوری شاہ کو میں دلی واپس جانےکے لئے اپنے مکان سے موٹر کار میں روانہ ہوا۔رستے میں ایک دوست سے رخصت ہونے کے لئے چند منٹ نیڈوز ہوٹل ٹھہرا۔وہاں سے روانہ ہوتے وقت میں نے کار میں بیٹھنے کے لئے پچھلے حصے کا دروازہ کھولا تو میرے دوست نے کہا لمبا سفر ہے تمہیں اگلی نشست میں آرام رہیگا۔بہتر ہے تم وہاں بیٹھو۔میں نے ان کا مشورہ صائب سمجھا اور اگلی نشست پر بیٹھ گیا امرت سے گذر کر باس سے پار ہوئے تو میں نے وقت دیکھا وہ بجھنے میں میں منٹ تھے۔میں نے خیال کیا جالندھر اسیشین پر رک کرد دوپہر کا کھانا کھائیں گے یم جالندھر سے ۲ میل کے فاصلے پر تھے کہ ایک کار ہو ہم سے آگے جارہی تھی سڑک کے پختہ حصے سے ہٹ کر کچھے حصے پر ہوگئی باتیں نہیں ہوئی تھیں موسم بہت خشک تھا کچے حصے پر بہت گرم تھی۔کار کے اس حصے پر جانے سے گرد کا ایک گھنا غبار اٹھا میں میں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔میرے شوق سید عبدالکریم صاحب نے گاڑی کوٹھہرانے کیلئے رفتار کو آہستہ بھی کرلیا اور اسے سڑک کے بالکل بائیں کنار ے ک لیے گئے دفعتہ کار کی تکر ایک بیل گاڑی سے ہوئی جو بالکل ہمارے سامنے سے آرہی تھی لیکن جیسے ہم گرد کی وجہ سے دیکھ نہیں سکے تھے۔بیل گاڑی کا درمیانی تی موٹر کا شیشہ توڑتے ہوئے پورے زور سے میرے بائیں رخسار پر۔۔