تحدیث نعمت — Page 271
کا اصول اگر چہ اکثریت کی نگہ میں ملک اور اکثریت اور اقلیتوں کے لئے یک لی طور پر نقصان دہ ہے پھر بھی چونکہ اقلیتوں کی طرف سے یا ان میں سے بعض کی طرف سے اس پر اصرار ہے اور وہ اسے اپنے حقوق کے تحفظ کا موثر ذریعہ سمجھتے ہیں تو انہیں مطمئن کرنے اور ان کا اعتماد حاصل کرنے کی خاطر اکثریت کو چاہیے کہ وہ اس پر رضا مند ہو جائے۔ممکن تھا کہ سر میں لال سیلواڈ کی تجوید کی بنا پر کوئی صورت سمجھوتے کی پیدا ہو سکتی لیکن اکثریت کی طرف سے کسی قسم کے رد عمل کا اظہار نہ ہوا اور بات وہیں کی وہیں رہ گئی۔یلی گول میز کانفرنس میں شروع سے ہی یہ جان نمایان و پیرا ہوا کہ ہندوستان کا آئینی نظام رقاقی ہونا چاہیے اور یہ طانوی اور ریاستی مہند دونوں اس نظام میں منسلک ہونے چاہئیں۔والیان ریاست کی طرف سے اس نظریے کی تائید کی گئی جس سے اسے بہت تقویت پہنچی اور وفاقی نظام کا تر تیب دنیا کا نفرنس کا مقصد قرار پایا۔چونکہ اس مقصد کے حصول کے لئے والیان ریاست کی رضا مندی لازم تھی اور والیات ریاست طبعاً وفاقی نظام کے اندر اپنے حقوق، اختیارات اور خصوصی مراعات کے ہر پہلو سے تحفظ کے خواہشمند تھے اسلئے پہلی کا نفرنس میں جو آوازہ ان کی طرف سے اٹھائی بھاتی تھی اور وہ بظاہر ایک منفقہ اور مضبوط آوانہ * تھی، وہ بہت توجہ سے سنی جاتی تھی اور اسے بہت اہمیت دی جاتی تھی۔کانفرنس کے اجلاسوں میں جن دو جملوں کی کثرت سے نگرا نہ ہوتی تھی وہ YOUR HIGHNESSES اور THEIR HIGHNESSE تھے شام کی دعوتوں میں ٹی ٹوسٹ ماسٹر پہر بارہ ان الفاظ کے ساتھ مہمانوں کی توجہ کا طالب ہوتا تھا۔YOUR HIGHNESSes, YourigracES, YOUR EXCELLENCIES, MY LORDS, LADIES AND GENTLEMEN, PRAY Silence For مولانا محمد علی صاحب کی وفات کا سانحہ | مولانا محمد علی صاحب نے ایک دن اجلاس میں اس تکرار سے۔۔OUR اکتا کر فرمایا مسٹر چیر مین THEIR HIGHNESSES TH کی طرف سے تو ہم بہت کچھ سن چکے اب LOWN ESSES کو بھی کچھ کہنے کا موقعہ ملنا چاہئیے ! مولانا صاحب کی صحت لندن تشریف آوری سے پہلے ہی تشویش کا موجب بن رہی تھی۔یہاں پہنچ کر تکلیف میں اضافہ ہوتا رہا۔کرسمس کی تعطیل میں ضعف بڑھنا شروع ہو گیا۔آخری ایام میں اپنا سیاسی وصیت نامہ لکھوایا اور سہم جبوری اس کو داعی اجل کو لبیک کہا۔انا للہ وانا الیہ راجعون بیت المقدس میں مسجد اقصی کے ایک حجرے میں مرقد بنا۔اللہ تعالیٰ مغفرت کرے اور رحمت کا سلوک فرمائے آمین۔پر بیوی کونسل میں پہلا کیس | جنوری کے آخرمیں کا نفرنس کا اعلاس ملتوی ہوا۔اجلاس کے دوران میں مجھے پر لوی کونسل کے روبرو پیش ہونے کا موقعہ میں آگیا۔ضلع گوجرانوالہ کے ایک قریشی زمیندار خاندان کے ایک