تحدیث نعمت — Page 266
میں ان کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہوں۔میں نے بتلایا حضور شعلے میں تشریف فرما ہیں اور فلاں دن قاریان واپس پہنچنے کا پروگرام ہے۔اس دن صبح کے وقت پر دھری صاحب نے مجھے اور میاں احمد بابر خان دولتانہ کو اپنے ساتھ مرند چھلنے کو کہا۔ہم دونوں کار میں چودھری صاحب کے ساتھ امرتسر کیئے۔کارکاسے آنیوالی گاڑی میں حضرت خلیفتہ الیشیم تشریف لائے۔حضور ایک چھوٹے سیلوں میں جس میں دو بڑے درجے کے خانے تھے اپنے رفقاء کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔امرت میں وہ سینیون قادیان جانیوالی گاڑی کے ساتھ لگا دیا گیا۔چودھری صاحب نے حضور کے ساتھ بات چیت شروع کی۔بھی گفتگو جاری تھی کہ گاڑی کی روانگی کا وقت ہو گیا چودھری صاحب نے اپنے شور کو پیغام بھیجا کہ وہ کارویہ کا ایشین پر لے آئے اور تین ٹکٹ دیرہ کا کے منگوا لئے ویہ کا سے ہم حضورہ سے رخصت ہو کیا ہورہ واپس آگئے۔گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ پچودھری صاحب نے مختصر آیا روٹی کے اراکین کے درمیان ہو مشورے ہوئے تھے ان کا لب لباب بیان کیا اور کہا ہم چاہتے ہیں کہ ظفر اللہ خال وزارت کا امید دار ہوں حضور نے دریافت فرمایا پھر یہ کیا کہتے ہیں ؟ چودھری صاحب نے کہا یہ تو نہیں مانتا۔حضور نے دریافت فرمایا کہ آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟ چودھری صاحب نے کہا ہم آپ کی خدمت میں اسلئے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ اسے ارشاد فرمائیں کہ یہ ہماری بات مان جائے۔حضور نے فرمایا جب یہ نہیں چاہتے تو میں کیسے مجبور کردی زید فرمایا کہ کون میں علم اراکین پہلے ہی کوئی مضبوط حیثیت نہیں رکھتے آپس میں اتا ہے انکی حیثیت اور کمزور ہو جائے گی میری رائے میں بہتر یہ ہوگا کہ پارٹی کے سلمان اراکین سب مل کر آپس میں اتفاق کے ساتھ مناسب فیصلہ کر لیں اور پھر اس کی پابندی کریں۔ممکن ہے چودھری شہاب الدین صاحب نے اس دوران میں میاں سر فضل حسین صاحب کے ساتھ بھی اس معاملے کے متعلق خط و کتابت کی ہولیکن مجھے اس کا علم نہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ چودھری ماں نے گورنہ صاحب کے ساتھ بھی کوئی بات کی ہو یا پارٹی کے بعض اراکین گو رہ نہ سے ملے ہوں لیکن مجھے اس کا بھی علم نہیں میں گول میز کانفرنس کے سلسلے میں لندن جانے کو تیارہ تھا کہ گورنہ صاری نے مجھے طلب فرمایا اور کہا مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یونینسٹ پارٹی کے مسلم اراکین کے مابین وزارت کے متعلق اختلاف ہے۔میں چاہتا ہوں کہ تم وزارت میں شامل ہو جائیہ میں نے شکریہ ادا کی اور کہا افسوس ہے میں تعمیل ارشاد سے قاصر ہوں۔ایک تو میں گول میز کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کر چکا ہوں۔وہ بھی خدمت کا ایک موقعہ ہے اور میں وہاں جانا چاہتا ہوئی۔درست پارٹی کے اندر جو اختلاف ہے میں اسے بڑھانے کا موجب نہیں بنا چاہتا۔گورنہ صاحب نے پوچھا تم لندن کے سفر یہ کب روانہ ہو گے ؟ میں نے کہا تین چار دن میں۔فرمایا کیا یہ ہوسکتا ہے کہ تم یہ سفر ایک ہفتہ کیلئے ملتوی کردو ؟ میں نے کہا کا نفرنس کے افتتاح کی تاریخ کے لحاظ سے تو ہوسکتا ہے۔کیونکہ میں ایک ہفتہ بعد روانہ ہو کہ بھی ہر وقت لندن پہنچ سکتا ہوں لیکن اس التوا سے آپ کی مشکل میں کمی ہونے کی توقع نہیں ہوسکتی میرا اندازہ ہے کہ جب تک میں موجود ہوں یہ کشمکش جاری رہے گی۔ملکہ میرے التوائے سفر سے شاید پڑھ