تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 254 of 736

تحدیث نعمت — Page 254

۲۵۴ کے ساتھ مویشیوں کے جھونپڑے میں پایا۔قریب ہی لکڑی کا ایک بھاری ٹکڑا پڑا تھا وہ اٹھا کر ان دونوں کو ہلاک کر دیا جھونپڑے کا دروازہ اندر سے بند کر دیا صبح ہونے پر جو پہلا شخص کنوئیں پر آیا اسے آوا نہ دی اور کہا میں نے گھتے اور کتی کو مار دیا ہے۔جاکہ پولیس کو بلا لاؤ۔پولیس کے سامنے واقعہ بیان کیا مجسٹریٹ اور رمیشین کی عدالتوں میں اپنے بیان پر قائم کرنا بیشن مہم نے ہر ایک قتل کی سزا شال قید با مشقت بخونید کی اپیل میں مجھے وکیل مقریر کیا گیا۔درجہ ایل ایک ہی تھی کہ سرا نا واجب طور پر سخت ہے۔اپیل کی سماعت مسٹر جسٹس آغا سیدر کے اجلاس میں ہوئی سرکاری وکیل مسرویس راج ساہنی تھے۔میں نے واقعات بیان کئے۔مسٹر جسٹس آغا حیدر۔مجھے یہ بتائیے کہ کیا ملزم نے عورت اور اس کے آشنا دونوں کو وہیں مار ڈالا ظفر اللہ خاں۔جی ہاں دونوں کو مار ڈالا۔مسٹر جٹس آغا حیدر۔تو پھر آپ کو کچھ مزید کہنے کی ضرورت نہیں سزا کا معاملہ مجھ پر رہنے دیں میٹر ساہنی آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ مسٹر ساہنی۔سناب عالی۔ملزم نے دو اشخاص کو کمال بے رحمی سے قتل کیا۔دس سال قید کی مجموعی سرا کو سخت نہیں قرار دیا جا سکتا۔مسٹر جسٹس آغا حیدر۔لیکن آپ نے واقعات پر بھی غور کیا ؟ ان حالات میں میں تو ملزم کے فعل کو حجیم بھی قرار نہیں دیتا۔لیکن قانون کہتا ہے یہ جرم ہے۔اس لئے میں مجبور ہوں کہ کچھ سنا انجونیہ کر دوں۔اس سے بڑھ کر اشتعال کیا ہو سکتا ہے ؟ مسر سا ہنی۔سناب عالی۔اس طبقے کے لوگوں کو ایسی باتوں پر آتنا اشتعال نہیں ہوتا۔مسٹر جسٹس آغا حیدر - کتا اشتغال نہیں ہوتا ؟ اشتعال کے درجے کا اندازہ تو ملزم نے اپنے فعل سے بنا دیا۔مسٹر ہتی۔لیکن جناب عالی۔ملزم نے یہ ساری کاروائی نہایت ٹھنڈے دل سے اور پورے عزم کے ساتھ کی اشتعال کا اس میں کوئی دو مخل نہ تھا۔مسٹر سیٹس آغا سیدر - (کچھ برہم ہو کر ) مسٹر ساہنی بتائیے اگر آپ ملزم کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے ؟ روسٹر سائی کو خاموش پا کر ، اچھا۔تو میں آپ کو بتاتا ہوں۔اگر آپ وہی کچھ نہ کرتے ہو کچھ ملزم نے کیا تو آپ شرافت کے دعو بلراہ نہ ہو سکتے ! جج صاحب نے ایک ایک سال قید بامشقت کی سندہ انجونیہ کی مسٹر ساہنی بہت بڑبڑاتے رہے۔میری رائے میں اتنی سنہ ابھی حالات کے لحاظ سے سخت تھی۔