تحدیث نعمت — Page 236
رپورٹ پیش کریں۔سر سر برٹ اس وقت ہوم سیکہ بیڑی تھے بعد میں پنجاب کے گور نہ ہوئے۔جون سالہ میں جب میاں صاحب نے کمزوری صحت کے سبب چار مہینے کی رخصت کی اور ان کی جگہ میرا ارمنی تقریر ہوا تو آپ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ سرسر بیسٹ ایمرسن کی رپورٹ پیش ہونے والی ہے۔اس پر بحث تو کچھ عرصہ بعد ہو گی لیکن تم اس رپورٹ پر اپنا نوٹ ضرور لکھ دنیاتا کہ بحث کے وقت میں اپنا تائید میں تمہارے نوٹ سے بھی فائدہ اٹھا سکوں۔یہ ایک چھوٹی سی بات تھی لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ مسلمانوں کے مفاد کی حفاظت کیلئے کسقدر پو کس تھے۔انکی صحت کی حالت سے کوئی دیکھنے والا اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ آپ کسی بات کیطرف توجہ کرنے کے قابل ہیں۔لیکن اس حالت میں بھی یہ نکتہ آپ نے فراموش نہ کیا کہ ان کی جگہ عارضی طور پر کام کرنے والا بھی ان کے موقف کی تائید میں نوٹ لکھ جائے تاکہ وہ یہ کہ سکیں کہ ہم دنوں کی یہ رائے ہے بالآخر حکومت ہند نے ہم جولائی کسی کو یہ ہدایت جاری کی کہ مرکزی اعلی ملانہ منوں میں مسلمانوں کو کم سے کم ۲۵ فیصد حصہ عنا چاہئیے۔اگر مقابلے کے امتحان میں مسلمان ۲۵ فیصد سے نہ ایڈ حصہ حاصل کریں تو وہ ان کا متن ہوگا۔لیکن اگر ان کا حصہ ۲۵ فیصد سے کم رہ جائے تو کمی و نامزدگی سے پورا کیا جائے۔گول میز کانفرس کے مباحثات کے دوران میں ایک نہایت اہم اور پیچیدہ مسئلہ جو پیدا ہوا وہ فرقه دارانہ نمائندگی کا تھا مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ مجالس قانون سانہ میں ہمیں محفوظ نشستوں کے ذریعے حق نمائندگی ملنا چاہیے۔جن صوبوں میں ہماری اکثریت ہے ان کی مجالس میں تو ہماری اکثریت ہونی چاہئے لیکن جہاں ہم اقلیت میں ہیں وہاں بھی تمہیں آبادی کے تناسب سے کچھ نہاید حصہ ملنا چاہیئے۔اس قضیئے کا فیصلہ آخر یہ طانیہ کی حکومت کے ذمے ڈالا گیا۔برطانوی حکومت نے حکومت ہند کی رائے طلب کی۔والٹر کی مجلس عاملہ میں اس پر تفصیلی بحث ہوئی۔سابق سندھ اور صوبہ سرحد کے متعلق تو کوئی مشکل پیش نہ آئی ان در صوبوں میں مسلمانوں کا تناسب آبادی اتنا تھا کہ اقلیت کو زائد نمائندگی دینے کے بعد بھی مسلمانوں کی کثرت قائم رہ سکتی تھی۔لیکن پنجاب میں مسلمانوں کا تناسب آبادی میں صرف ۵۶ فیصد تھا اور چھوٹی میلیو کو چھوڑ کر دو بڑی اقلیتیں ہندوں اور سکھوں کی تھیں۔پنجاب کے متعلق بھی مجلس عاملہ میں اتفاق ہو گیا جب کے نتیجے میں مسلمانوں کے لئے خفیف کی اکثریت مجلس قانون ساز میں قائم رہی۔لیکن بنگال میں ایک اور شکل تھی وہاں مسلمانوں کا تناسب آبادی صرف ۵۴ فیصد ہونے کے علاوہ یورپین اقلیت ہو تعداد میں بہت قلیل مگر تجارتی ، صنعتی اور مالی لحاظ سے نہایت اہم تھی انہیں معتد بہ نمائندگی دینے کا فیصلہ تھا۔اس غرض کیلئے جو طریق بھی اختیار کیا جاتا، مسلمانوں کی اکثریت قائم نہ رہتی۔اور مہندؤں کو نہ ایک نمائندگی تو الگ تناسب آبادی کے مطابق بھی نمائندگی نہ مل سکتی آخر مجلس عاملہ کی اکثریت نے میں بجوینیہ کی سفارش کی اس کے مطابق