تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 192 of 736

تحدیث نعمت — Page 192

۱۹۲ ہوتا ہے۔اور اگر چھوٹا بھائی نہ ہو تو ہمشیرہ زادہ وارث ہوتا ہے۔اگر ہمشیرہ زادہ نہ ہو تو نخالہ زادہ وارث ہوتا ہے۔اگر وہ بھی نہ ہو تو نانی کا بیٹا یعنی ناموں اور وہ بھی نہ ہو تو نانی کی والدہ کی دختری نسل میں سے سب سے معمر مرد وغیرہ۔مالا بارہ میں مختلف مقامات پر احمدی جماعتیں قائم ہیں اور تبشیر کے ذریعے نئے افراد جماعت میں شامل ہوتے رہتے۔۔ہیں۔ایک شادی شدہ نو جوان ما پلا کے جماعت میں داخل ہونے پر اس کی بیوی کے بھائیوں نے اسے خاندان مشترکہ سے خارج کر دیا اور قامتی مدراس سے فتویٰ حاصل کر کے کہ احمدی ہونے سے وہ مرتد ہو گیا ہے اور اس کا نکاح فسخ ہوگیا۔ہے اپنی بہن کی شادی کسی اور شخص سے کر دی۔خاوند اگر اس مرحلے پر سلسلہ احمدیہ کے مرکز سے مشورہ کرتا تو غالباً یہ مشورہ دیا جاتا کہ وہ دیوانی عدالت کی طرف نہ جوع کرے اور وہ عولی حق استقرار دائر کرے کہ جماعت احمدیہ میں داخل ہونے سے نکاح فسخ نہیں ہوا اور مدعا علیہا شرعا اور قانوناً اس کی زوجیت میں ہے۔لیکن خاوند نے مقامی وکیل کے مشورے سے بیوی، اس کے بھائیوں اور اس شخص کے خلاف فوجداری استغاثہ دائر کیا جس کے ساتھ بیوی کے دوسرے نکاح کی رسم ادا کی گی منفی ، استغاثے کی سماعت سیشن ج نے کی جو مدراسی پر ہی تھے اور تصفیہ طلب فقہی امور اور مسائل کا کوئی علم نہیں رکھتے تھے۔انہوں نے قرامہ دیا کہ جمہور مسلمانوں اور احمدیہ حمایت کے مابین عقائد میں اختلاف ہے۔اسلئے مستغیث مسلمان نہیں شمار ہو سکتا اور اس کے از نداد کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ ہو گیا ہے۔اور اگر اب نہ بھی ہو تو چونکہ متاث علیہم نے نکاح ثانی میں قاضی مدیر اس کے فتوی پر عمل کرنے میں نیک نیتی سے کام لیا ہے اس لئے ان کا یہ فعل مجرم نہیں گردانا جاسکتا۔اور وہ کسی سزا کے مستوجب نہیں۔چنانچہ فاصل سیشن جج صاحب نے استغاثہ خارج کر دیا اور ملزمان کو بری قرار دیا۔بہ بیت کے خلاف اپیل کا حق صرف حکومت کو ہے۔حکومت سے درخواست کرنے پر جواب ملا کہ اس معاملے میں چونکہ بنائے نشانہ عہ اختلاف عقاید ہے اور مذہبی امور میں دخل دینیا حکومت کے لئے مناسب نہیں اسلئے حکومت اپیل کی ذمہ داری نہیں لے سکتی۔نگرانی کے متعلق مدراس ہائی کورٹ کے اجلاس کامل کا فیصلہ تھا کہ بہ بیت کے حکم کے خلاف ہائی کورٹ نگرانی کی سماعت نہیں کرے گی۔ان سب باتوں کے باوجود حضرت خلیفہ المسیح ثانی نے ارشاد فرمایا کہ چونکہ چارہ جوئی کا اور کوئی راستہ کھلا نہیں اسلئے نگرانی ہر صورت داخل کر دی بجائے۔چنانچہ نگرائی دائر کی گئی اور اس کی سماعت کی تاریخ مقربہ ہونے پر خاک ر کو پیروی کا ارشاد ہوا۔اس سفر میں چودھری بشیر احمد صاحب میرے ہم سفر ہوئے۔مدر اس پہنچنے پر معلوم ہوا کہ سماعت میں ابھی چند دن تاخیر ہوگی اسلئے ہم اس وقفہ میں سکندر آباد چلے گئے اور وہاں حضرت عبداللہ بھائی اللہ دین کے ہاں مہمان ہوئے۔ان فرشتہ سیرت بزرگ کے ہاں یہ تین چار دن کا قیام بہت دلچسپ رہا۔حیدر آباد ان دنوں ملی تندی اور تمدن کی جھلک پیش کرتا تھا۔نگرانی کی سماعت مسٹر جیٹس اولڈ فیلڈ اور مسٹر جسٹس کو شنن کے اسلام میں ہوئی ی مسئول علیہم کی طرف سے