تحدیث نعمت — Page 165
190 پس منظر ان تحریروں کا یہ ہے کہ بد قسمتی سے عیسائی پادریوں کا یہ وطیرہ ہو گیا ہے کہ وہ بانی اسلام حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت بد نہ بانی کرتے رہتے ہیں۔اور طرح طرح کے سجھوٹے اور ناپاک الزامات کا نشانہ آپ کی ذرات مطہر کو بتاتے ہیں۔وہ حقیقت کی پر واہ کرتے ہیں نہ مسلمانوں کی دل آزاری کا احساس ان کے رستے میں روک ہوتا ہے۔اس حالت کو دیکھ کر اور ان کے ظلم سے تنگ آکر بانی سلسلہ احمدیہ نے چاہا کہ ان کو ان کے اپنے گھر کی حقیقت کے بعض حصوں کی طرف توسعہ دلائی جائے جس سے ممکن ہے کہ ان کے طرز عمل کی اصلاح ہو سکے۔چنانچہ آپ نے فرمایا عیسائی پادری رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس اور قرآن کریم حبیبی پاکیزہ وحی پر حملہ کرنے میں نہ صرف اپنا اخلاقی پستی کا ثبوت پیش کرتے ہیں ملکہ پرلے درجے کی احسان فراموشی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ہم تو حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا سچا رسول اور سیر گزیدہ نبی مانتے ہیں اور آپ کی والدہ کا عد درجہ احترام کرتے ہیں۔تو یہ اس لئے ہے کہ قرآن کریم میں نہیں سکھاتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمیں بھی تعلیم ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کا تو ہماری نگاہ میں د کا درجہ ہے جو قرآن کریم میں بیان شدہ ہے۔لیکن یہ میسوع حبس کا ذکر انجیلوں میں ہے اس کو تم نہیں جانتے نہ ہم اسے پہچانتے ہیں نہ قبول کرتے ہیں۔اس کی اور اس کے اعداد کی جو تصویر انجیلوں میں درج ہے، اس سے تو یہ لوگ راستبانہ اور باخلاق بھی ثابت نہیں ہوتے۔اور اس بات کے ثبوت میں اس تصویر کے بعض رخ ہم پیش کرتے ہیں۔چنانچہ جو کچھ میرے فاضل دوست نے آپ کو پڑھ کر سنایا ہے۔وہ بانی سلسلہ احمدیہ نے حضرت میے کے متعلق نہیں کہا اور نہ کہہ سکتے تھے۔یسب بیانات میسوع کی نسبت یا تو لفظ انجیل کے بیانات ہیں یا ان بیانات کا جو انجیل میں ہیں صحیح خلاصہ اور مطلب ہیں۔ان میں سے ایک لفظ بھی جناب بانی سلسلہ احمدیہ کی طرف سے نہیں۔اگر یہ عبارتیں قابل اعتراض یا ناگواہ ہیں تو ان کی ذمہ داری انجیل نویسوں پر ہے۔بانی سلسلہ احمدیہ نے صاف فرمایا ہے کہ ہم ان باتوں کو حضرت مسیح کی شان کے منافی سمجھتے ہیں اور ہر گنہ تسلیم نہیں کرتے کہ ان کا اطلاق کی حضرت مسیح یہ ہو سکتا ہے۔میرے فاضل دوست کو چاہئے تھا کہ یہ تمام پس منتظر اور سیاق سباق ہو ان تحریروں میں موجود ہے پیش کر دیے تاکہ کسی غلط نہی کی گنجائش نہ رہ ہیں۔میرے جواب الجواب پر بحث ختم ہوگئی۔چیف جسٹس صاحب نے فرمایا ہم فیصلہ محفوظ رکھتے ہیں اور میرا نام لیکر اور مجھے مخاطب کر کے اپنی طرف سے اور مسٹر جسٹس رو کی طرف سے بھی کچھ تعریفی الفاظ میری نسبت فرمائے۔فجزاهم الله - میں کیا اور میری باطل کیا۔میری حیثیت یہ مقابلہ اس ذمہ داری کے