تذکرہ — Page 62
رجوع رکھتا ہے کہ گویا وہ بندوں کے پاس ہی خیمہ زن ہے۔پس جبکہ سالک سَیْر اِلَی اللہِ کرتا کرتا اپنی کمالِ سیر کو پہنچ گیا تو جہاں خدا تھا وہیں اُس کو لوٹ کر آنا پڑا۔پس اِس و جہ سے کمال دُنوّ یعنی قربِ تام اُس کی تدلّی یعنی ہبوط کا موجب ہوگیا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱صفحہ ۵۸۶ تا ۵۹۰ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳) ۱۸۸۳ء ’’ یُـحْيِ الدِّیْنَ وَ یُقِیْمُ الشَّـرِیْعَۃَ زندہ کرے گا دین کو اور قائم کرے گا شریعت کو یَا اٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْـجَنَّۃَ۔یَامَرْیَمُ اسْکُنْ؎۱ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْـجَنَّۃَ۔یَا اَحْـمَدُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْـجَنَّۃَ۔نَفَخْتُ فِیْکَ مِنْ لَّدُ نِّیْ رُوْحَ الصِّدْقِ۔اے آدم۔اے مریم۔اے احمد تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے جنت میں یعنی نجات حقیقی کے وسائل میں داخل ہوجاؤ۔میں نے اپنی طرف سے سچائی کی روح تجھ میں پھونک دی ہے۔اس آیت میں بھی روحانی آدم کا و جہ تسمیہ بیان کیا گیا۔یعنی جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش بلاتوسط اسباب ہے ایسا ہی روحانی آدم میں بلا توسط ِ اسباب ظاہر یہ نفخ روح ہوتاہے اور یہ نفخ روح حقیقی طور پر انبیاء علیہم السلام سے خاص ہے اور پھر بطور تبعیت اور وراثت کے بعض افراد خاصہ امت ِ محمدیہ کو یہ نعمت عطا کی جاتی ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۰، ۵۹۱ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان الہامات کی تشریح فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔’’مریم سے مریم اُمّ عیسیٰ مراد نہیں اور نہ آدم سے آدم ابو البشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور عیسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کئے گئے ہیں اُن ناموں سے بھی وہ انبیاء مراد نہیں ہے بلکہ ہر یک جگہ یہی عاجز مراد ہے۔اب جبکہ اس جگہ مریم کے لفظ سے کوئی مؤنث مراد نہیں ہے بلکہ مذکّر مراد ہے تو قاعدہ یہی ہے کہ اس کے لئے صیغہ مذکّر ہی لایا جائے۔یعنی یَـا مَرْیَمُ اسْکُنْ کہا جائے… اور زوج کے لفظ سے رفقاء اور قرباء مراد ہیں زوج مراد نہیں ہے اور لغت میں یہ لفظ دونوں طور پر اطلاق پاتا ہے اور جنّت کا لفظ اس عاجز کے الہامات میں کبھی اُسی جنت پر بولا جاتا ہے کہ جو آخرت سے تعلق رکھتا ہے اور کبھی دنیا کی خوشی اور فتح یابی اور سرور اورا ٓرام پر بولا جاتا ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی شاہ صاحب۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۵۹۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)