تذکرہ — Page 61
دنوّ سے مُراد قربِ الٰہی ہے… اور تَدَلّٰی سے مراد وہ ہبوط اور نزول ہے کہ جب انسان تخلّق باخلاق اللہ حاصل کرکے اُس ذاتِ رحمٰن و رحیم کی طرح شَفْقَۃً عَلَی الْعِبَاد عالمِ خلق کی طرف رجوع کرے اور چونکہ کمالات دنوّکے کمالات تدلّی سے لازم ملزوم ہیں۔پس تدلّی اُسی قدر ہوگی جس قدر دنوّ ہے اور دنوّ کی کمالیت اس میں ہے کہ اسماء اور صفاتِ الٰہی کے عکوس کا سالک کے قلب میں ظہور ہو اور محبوب حقیقی بے شائبہ ظلّیت اور بے تواہم حالیّت و محلیّت اپنے تمام صفاتِ کاملہ کے ساتھ اُس میں ظہور فرمائے اور یہی استخلاف کی حقیقت اور روح اللہ کے نفخ کی ماہیّت ہے اور یہی تخلّق باخلاق اللہ کی اصل بنیاد ہے اور جب کہ تدلّی کی حقیقت کو تَـخَلُّقْ بِأَخْلَاقِ اللہِ لازم ہوا اور کمالیّت فی التخلّق اس بات کو چاہتی ہے کہ شفقت علی العباد اور اُن کے لئے بمقام نصیحت کھڑے ہونا اور ان کی بھلائی کے لئے بدل و جان مصروف ہوجانا اِس حد تک پہنچ جائے جس پر زیادت متصور نہیں اس لئے واصل تام کو مجمع الاضداد ہونا پڑا کہ وہ کامل طور پر روبخدا بھی ہو اور پھر کامل طور پر روبخلق بھی۔پس وہ اُن دونوں قوسوں الوہیّت و انسانیت میں ایک وتر کی طرح واقعہ ہے جودونوں سے تعلق کامل رکھتا ہے… پس جاننا چاہیے کہ اس جگہ ایک ہی دل میں ایک حالت اور نیّت کے ساتھ دو قسم کا رجوع پایا گیا۔ایک خدائے تعالیٰ کی طرف جو وجودِ قدیم ہے اور ایک اُس کے بندوں کی طرف جو وجودِ محدث ہے اور دونوں قسم کا وجود یعنی قدیم اور حادث ایک دائرہ کی طرح ہے جس کی طرف اعلیٰ وجوب اور طرف اسفل امکان ہے۔اب اُس دائرہ کے درمیان میں انسان کامل بوجہ دنوّ اور تدلّی کے دونوں طرف اتصال محکم کرکے یوں مثالی طور پر صورت پیدا کرلیتا ہے جیسے ایک وَتر دائرہ کے دو قوسوں میں ہوتا ہے یعنی حق اور خلق میں واسطہ ٹھہرجاتا ہے پہلے اس کو دنوّ اور قربِ الٰہی کی خلعتِ خاص عطا کی جاتی ہے اور قرب کے اعلیٰ مقام تک صعود کرتا ہے اور پھر خلقت کی طرف اس کو لایا جاتا ہے۔پس اس کا وہ صعود اور نزول دو قوس کی صورت میں ظاہر ہوجاتا ہے اور نفس جَامِعُ التَّعَلُّقَیْنِ انسان کامل کا اُن دونوں قوسوں میں قَابَ قَوسَین کی طرح ہوتا ہے اور قَابَ عرب کے محاورہ میں کمان کے چِلّہ پر اطلاق پاتا ہے۔پس آیت کے بطور تحت اللفظ یہ معنے ہوئے کہ نزدیک ہوا یعنی خدا سے۔پھر اُترا یعنی خلقت پر۔پس اپنے اس صعود اور نزول کی و جہ سے دو قوسوں کے لئے ایک ہی وتر ہوگیا۔اور چونکہ اُس کا روبخلق ہونا چشمہ ٔ صافیہ تخلق باخلاق اللہ سے ہے اس لئے اُس کی توجہ بمخلوق توجہ بخالق کے عین ہے یا یوں سمجھو کہ چونکہ مالک حقیقی اپنی غایت شفقت علی العباد کی و جہ سے اِس قدر بندوں کی طرف