تذکرہ — Page 726
ایّامِ جلسہ۱۹۰۷ء ’’یَـا اَیُّـھَا۱؎ النَّبِیُّ اَطْعِمُوا الْجَآئِعَ وَالْمُعْتَرَّ۔‘‘۲؎ ( بدر جلد۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍ جنوری۱۹۰۸ء صفحہ ۱۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱ مورخہ ۲؍ جنوری۱۹۰۸ء صفحہ ۳) ۱ (ترجمہ) یعنی اے نبی ! بھوکوں اور سوالیوں کو کھانا کھلاؤ۔( بدر مورخہ ۹؍ جنوری۱۹۰۸ء صفحہ ۱) ۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) ’’ بعض مہمانوں کو (سالانہ جلسہ ۱۹۰۷ء کے موقعہ پر۔مرتّب) ایک دن کھانا بہت دیر میں ملا۔روٹی کافی تیار تھی مگر جگہ تنگ تھی اور تھوڑے آدمی ایک وقت میں کھاسکتے تھے اِس واسطے بہت دیر ہوگئی اور بعض مہمان بغیر کھانا کھانے کے سونے کے کمروں میں چلے گئے …تو ان کو یہ انعام ملا کہ خود خداوند ِ عالَم نے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور براہِ راست آسمان سے اللہ کے رسول کے پاس رات کو پیغام پہنچا کہ اَطْعِمُوا الْـجَآئِعَ وَالْمُعْتَرَّ بھوکے اور مُضطر کو کھانا کھلا۔صبح سویرے حضور ؑنے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ رات بعض مہمان بھوکے رہے۔اُسی وقت آپ نے ناظمانِ لنگر کو بلایا اور بہت تاکید کی کہ مہمانوں کی ہر طرح سے خاطر داری کی جاوے اور ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔‘‘ ( بدر مورخہ ۹؍ جنوری۱۹۰۸ء صفحہ۳) حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ اسی الہام کے متعلق فرماتے ہیں۔’’۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۰۷ء کا واقعہ ہے کہ صبح کے آٹھ بجے کھانا کھانے کے بعد یہ عاجز جلسہ میں تقریروں کے سننے میں لگ گیا۔اسی روز مسیحِ پاک کی تقریر بھی سنی اور خوب سیری حاصل ہوئی۔نماز مغرب و عشاء ( جمع کردہ) ادا کی اور مسجد مبارک میں حسب الارشاد مجلس معتمدین صدر انجمن کے جنرل اجلاس میں شامل ہونے کی غرض سے بیٹھ گیا کہ اجلاس کے بعد کھانا کھالوں گا۔اعلان کے مطابق اس میں جماعتوں کے صدر صاحبان اور سیکرٹریوں کی شمولیت ضروری تھی۔میں اس وقت کمزور تھا۔بھوکا تھا کہ صبح آٹھ بجے کا کھانا کھایا ہوا تھا۔دن میں اور کچھ کھانے کو میسر نہ آیا تھا۔بیس سالہ جوان تھا۔شاید ایک آدھ کے سوا باقی تمام احباب سنتوں وغیرہ سے فارغ ہوکر مسجد سے چلے گئے تھے۔اس حال کے پیش نظر نفس تقاضا کرتا تھا کہ اٹھ کر چلا جا کہ غالباً اراکین صدر انجمن احمدیہ کھانا کھانے کے لئے چلے گئے ہیں اور سب لوگ لنگر میں کھانا کھارہے ہیں تو بھی جاکر کھانا کھا کر چلا آ۔لیکن غریب دل ڈرا کہ مباداغیر حاضر ہوجائوں۔بیٹھا رہا۔بیٹھا رہا۔پورے دو گھنٹے انتظار میں گزر گئے۔بھوک نے بہت ستایا۔قریباً پونے نو بجے معزز اراکین صدر انجمن اور چند احباب جماعت ہائے بیرون تشریف لے آئے۔اجلاس شروع ہوکر پونے بارہ بجے رات ختم ہوا۔خواہش خوراک از خود ختم ہوگئی کہ بھڑک کی طاقت ہی باقی نہ رہی تھی۔مسجد سے نیچے اترا اور طوعاً و کرہاً لنگر کا رخ کیا جسے بند پایا۔ناچار اپنی جائے قیام پر جو بیت المال کے کمروں میں تھی واپس آکر سونے کو تھا کہ کسی نے دروازہ پر دستک دی کہ جس مہمان بھائی نے کھانا نہیں کھایا وہ لنگر خانہ میں جاکر کھانا کھالے۔چنانچہ بندہ گیا اور جو کچھ ملا شکر کرکے کھا کر چلا آیا۔