تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 1089

تذکرہ — Page 50

جس دن یہ پیش گوئی پوری ہوئی اور امرتسرجانے کا سفر پیش آیا وہی دن پہلی پیشگوئی کے پورے ہونے کا دن تھا۔سو وہ پہلی پیشگوئی بھی میاں نور احمد صاحب کے رُوبرو پوری ہوگئی یعنی اُسی دن جو دس دن کے بعد کا دن تھا روپیہ آگیا اور امرتسر بھی جانا پڑا۔فَالْـحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۶۲تا ۵۶۵ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳) ۱۸۸۲ء ’’ایک دفعہ فجر کے وقت الہام ہوا کہ آج حاجی ارباب محمد لشکر خان کے قرابتی کا روپیہ آتا ہے یہ پیش گوئی بھی بدستورِ معمول اُسی وقت چند آریوں کو بتلائی گئی اور یہ قرار پایا کہ اُنہیں میں سے ڈاک کے وقت کوئی ڈاک خانہ میں جاوے چنانچہ ایک آریہ ملاوامَل نامی اُس وقت ڈاک خانہ میں گیا اور یہ خبر لایا کہ ہوتی مردان سے دس روپیہ آئے ہیں اور ایک خط لایا جس میں لکھا تھا کہ یہ دس روپیہ ارباب سرور خان نے بھیجے ہیں۔چونکہ ارباب کے لفظ سے اتحادِ قومی مفہوم ہوتا تھا اس لئے اُن آریوں کو کہا گیاکہ ارباب کے لفظ میںدونوں صاحبوں کی شراکت ہونا پیش گوئی کی صداقت کے لئے کافی ہے۔مگر بعض نے اُن میں سے اس بات کو قبول نہ کیا اور کہا کہ اتحادِ قومی شے دیگر ہے اور قرابت شے دیگر اور اس انکار پر بہت ضد کی۔ناچار ان کے اصرار پر خط لکھنا پڑا اور وہاں سے یعنی ہوتی مردان سے کئی روز کے بعد ایک دوست منشی الٰہی بخش نامی نے جو اُن دنوں میں ہوتی مردان میں اکونٹنٹ تھے خط کے جواب میں لکھا کہ ارباب سرور خان ارباب محمد لشکر خان کا بیٹا ہے چنانچہ اُس خط کے آنے پر سب مخالفین لاجواب اور عاجز رہ گئے۔فَالْـحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۵۶۵،۵۶۶ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳) ۳۰؍دسمبر ۱۸۸۲ء (الف) ’’ایک عجیب کشف سے جو مجھ کو۳۰ ؍دسمبر ۱۸۸۲ء بروز شنبہ کو یک دفعہ ہوا۔آپ کے شہر؎۱کی طرف نظر لگی ہوئی تھی اور ایک شخص؎۲نامعلوم الاسم کی ارادت صادقہ خدا نے میرے پر ظاہر کی جو ۱ لدھیانہ (ناشر) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’لودہانہ میں ایک صاحب میر عباس علی نام تھے جو بیعت کرنے والوں میں داخل تھے۔چند سال تک انہوں نے اخلاص میں ایسی ترقی کی کہ ان کی موجودہ حالت کے لحاظ سے ایک دفعہ الہام ہوا۔اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُھَا فِی السَّمَآءِ۔اس الہام سے صرف اس قدر مطلب تھا کہ اُس زمانہ میں وہ راسخ الاعتقاد