تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 697 of 1089

تذکرہ — Page 697

۴؍ جولائی۱۹۰۷ء ’’۴؍جولائی ۱۹۰۷ء روز پنج شنبہ بوقت چار بجے دن کے دیکھا کہ کچھ چنے پسے ہوئے ہیں یعنی چنوں کی دال بریاں ہے اس میں میوہ یعنی کشمش ملی ہے۔مَیں چنوں میں سے کشمش کے دانے کھاتا ہوں۔پھر الہام ہوا۔خَیْرٌ لَّھُمْ۔خَیْرٌ لَّھُمْ۔پھر اسی طرح چند پیسے دیکھے۔(والدہ محمود کی طرف خیال تھا خدا خیر کرے۔) یہ خواب اور الہام اس طرح پورے۱؎ ہوگئےکہ شام کو میرا آدمی والدہ محمود اور سب کو گاڑی میں سوار کراکر واپس آیا اور اس نے بیان کیا کہ ریزرو گاڑی کا بندوبست نہیں ہوا تھا اس لئے معمولی گاڑی میں سوار ہونا پڑا اور یہی رنج کا باعث ہوگیا۔مگر اس کے ساتھ پھر اور مجھے خیال آتا ہے کہ رنج دِہ دو چیزیں دکھلائی گئی ہیں یعنی چنے اور پیسے ایسا ہی خیر و عافیت کی بابت دو الہام ہیں۔خَیْرٌ لَّھُمْ۔خَیْرٌ لَّھُمْ۔اس لئے خطرہ ہے کہ اور رنج پیش نہ آیا ہو۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔‘‘ (کاپی الہامات۲؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۳، ۲۲، ۲۱) ۱ (نوٹ از ایڈیٹر الحکم) ’’اِس الہام اور خواب کی جبکہ اچھی طرح اشاعت ہوگئی تو قریب شام کے اپنا ایک آدمی جو سب قافلہ کو ریل پر سوار کرکے واپس آیا تھا اُس کی زبانی معلوم ہوا کہ عین دوپہر کی گرمی میں ریل کے اندر مسافروں کی کشاکش سے بچنے کے واسطے جو انتظام ریزرو کا کیا گیا تھا وہ نہ ہوسکا کیونکہ لاہور سے کوئی الگ گاڑی اِس مطلب کے واسطے نہ پہنچ سکی تھی اور اِس سبب سے تشویش ہوئی۔اِس طرح خواب کا حصّہ پورا ہوا مگر پھر بھی بموجب بشارت الہام کے خیریت رہی اور معمولی گاڑی میں آرام سے بیٹھ کر چلے گئے۔‘‘ (الحکم مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۲۔بدر مورخہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ ۴ ) ۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۱۱ جولائی۱۹۰۷صفحہ ۴ اور الحکم مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۲ میںیہ خواب ان الفاظ میں درج ہے۔’’ فرمایا کہ آج دو بجے دن کے مجھے خیال آیا کہ ہمارے گھر کے آدمی اَب شاید امرتسر پہنچ گئے ہوں گے اور یہ بھی خیال تھا کہ امن و امان سے لاہور میں پہنچ جائیں۔تب اِس خیال کے ساتھ ہی کچھ غنودگی ہوئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ نخود کی دال ( جو رنج اور ناخوشی پر دلالت کرتی ہے) میرے سامنے پڑی ہے اور اس میں کشمش کے دانے قریباً اسی قدر ہیں اور مَیں اُس میں سے کشمش کے دانے کھا رہا ہوں اور میرے دل میں خیال گذر رہا ہے کہ یہ ان کی حالت کا نمونہ ہے اور دال سے مراد کچھ رنج اور ناخوشی ہے کہ سفر میں ان کو پیش آئی ہے یا آنے والی ہے۔پھر اسی حالت میں میری طبیعت الہامِ الٰہی کی طرف منتقل ہوگئی اور اِس بارے میں الہام ہوا۔خَیْرٌ لَّھُمْ۔خَیْرٌ لَّھُمْ یعنی ان کے لئے بہتر ہے۔ان کے لئے