تذکرہ — Page 48
دس دن کے بعد میں موج دکھاتا ہوں۔اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔فِیْ شَائِلٍ مِّقْیَاسٍ۔دن وِل یُو گو ٹُو امرت سر؎۱ یعنی دس۱۰ دن کے بعد روپیہ آئے گا۔خدا کی مدد نزدیک ہے اور جیسے جب جننے کے لئے اونٹنی دُم اُٹھاتی ہے تب اس کا بچہ جننا نزدیک ہوتا ہے ایسا ہی مدد الٰہی بھی قریب ہے اور پھر انگریزی فقرہ میں یہ فرمایا کہ دس دن کے بعد جب روپیہ آئے گا تب تم امرتسر بھی جاؤ گے۔تو جیسا اس پیش گوئی میں فرمایا تھا ایسا ہی ہندوؤں یعنی آریوں مذکورۂ بالا کے روبرو وقوع میں آیا۔یعنی حسب منشاء پیش گوئی دس دن تک ایک خر مہرہ نہ آیا اور دس دن کے بعد یعنی گیارہویں روز محمد افضل خان صاحب سپرنٹنڈنٹ بندوبست راولپنڈی نے ایک سو دس روپیہ بھیجے اور بیست روپیہ ایک اور جگہ سے آئے اور پھر برابر روپیہ آنے کا سلسلہ ایسا جاری ہوگیا جس کی امید نہ تھی اور اُسی روز کہ جب دس دن کے گذرنے کے بعد محمد افضل خان صاحب وغیرہ کا روپیہ آیا امرتسر بھی جانا پڑا کیونکہ عدالت ِ خفیفہ امرتسر سے ایک شہادت کے ادا کرنے کے لئے اس عاجز کے نام اُسی روز ایک سمن آگیا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۵۹ تا ۵۶۱ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳ ) ۱۸۸۲ء ’’کچھ عرصہ ہوا…ایک صاحب نور احمد نامی جو حافظ اور حاجی بھی ہیں بلکہ شاید کچھ عربی دان بھی ہیں اور واعظِ قرآن ہیں اور خاص امرتسر میں رہتے ہیں اتفاقاً اپنی درویشانہ حالت میں سیر کرتے کرتے یہاں بھی آگئے…چونکہ وہ ہمارے ہی یہاں ٹھہرے اور اس عاجز پر اُنہوں نے خود آپ ہی یہ غلط رائے جو الہام کے بارے میں اُن کے دل میں تھی؎۲ مدعیانہ طور پر ظاہر بھی کردی اس لئے دل میں بہت رنج گذرا۔ہر چند معقول طور پر سمجھایا گیا کچھ اثر مترتب نہ ہوا۔آخر توجہ الی اللہ تک نوبت پہنچی اور اُن کو قبل از ظہور پیش گوئی بتلایا گیا کہ خداوند کریم کی حضرت میں دعا کی جائے گی کچھ تعجب نہیں کہ وہ دعا بپایۂ اجابت پہنچ کر کوئی ایسی پیش گوئی خداوند ِ کریم ظاہر فرما دے جس کو تم بچشمِ خود دیکھ جاؤ۔۱ Then will you go to Amritsar۔۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) کہ الہام انسان کے دماغی خیالات ہی کا نام ہے۔