تذکرہ — Page 681
میں بھی کروڑ ہا زنبور ہیں مگر ہم ان کے شر سے محفوظ رہے ہیں۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر۱۴ مورخہ۴ ؍ اپریل۱۹۰۷صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۱ نمبر۱۱مورخہ ۳۱ ؍ مارچ۱۹۰۷صفحہ ۲) مارچ۱۹۰۷ء ’’ اے اَزلی اَبدی خدا مجھے زندگی کا شربت پلا۔‘‘ (کاپی الہامات۱؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۶۹) ۳۱؍ مارچ۱۹۰۷ء ’’ ۱۔حَقَّ اللّٰہُ اَمْرِیْ۔وَ لَا تَنْفَکَّا مِنْ ھٰذِ ہِ الْمَرْحَلَۃِ۔۲؎ محمود کی والدہ کی نسبت۔۲۔بہشتی کمرہ میں نزول ہوگا۔دولت ِ اعلام بذریعہ الہام۳؎۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۶۸، ۶۷) یکم اپریل ۱۹۰۷ء ’’ لَوْ۴؎ لَا الْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمُقَامُ۔‘‘۵؎ (بدر جلد ۶ نمبر۱۴ مورخہ۴ ؍ اپریل۱۹۰۷ء صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۱ نمبر۱۲مورخہ ۱۰ ؍ اپریل ۱۹۰۷ءصفحہ۱) ۱ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۴ ؍ اپریل۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۰ ؍ اپریل ۱۹۰۷صفحہ۱ میں اس الہام کی تاریخ نزول ۲۹؍مارچ ۱۹۰۷ء درج ہے۔۲ (ترجمہ) خدا نے میری بات کو سچا کردیا اور تم دونوں اس مرحلہ سے نہیں چھوٹو گے۔(بدر مورخہ ۴؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) الحمد للہ یہ پیشگوئی اخبار شبھ چنتک کے مینجر اچھر چند اور ایڈیٹر سوم راج کے طاعون سے ہلاک ہونے سے پوری ہوگئی۔یہ دونوں اشخاص اپنی گندہ دہانی اور بد زبانی میں قادیان کے آریوں کے لیڈر تھے اور قادیان میں رہ کر نہایت ناپاکی کے ساتھ سلسلہ حقّہ کے برخلاف بولتے اور لکھتے رہتے تھے۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔(دیکھیے بدر ۱۱؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۵) ۳ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۴ ؍ اپریل۱۹۰۷ءصفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۰ ؍ اپریل ۱۹۰۷صفحہ۱ میں یہ الہامات ۲۹؍مارچ ۱۹۰۷ء کے تحت درج ہیں اور الہام نمبر ۲ کے الفاظ یہ ہیں۔’’دولت ِ اعلام بذریعہ الہام بہشتی کمرہ میں نزول ہوگا۔‘‘ ۴ (ترجمہ) اگر میں تمہاری عزت کا پاس نہ کرتا تو میں اِس تمام گاؤں کو ہلاک کر دیتا اور ان میں سے ایک بھی نہ چھوڑتا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۴۳) ۵ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۴ ؍ اپریل۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اورالحکم مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں اس الہام کے بارہ میں تحریر ہے کہ ’’اِس میں ابتدائی حروف کچھ اَور تھے جو یاد نہیں رہے مگر مفہوم یہی تھا۔‘‘ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) بدر مورخہ ۱۱؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴ پر جو یہ الہام دوبارہ چھپا ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں۔’’ لَوْ لَا الْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمُقَامُ یا یہ کہا لَوْ لَا خَیْرُ الْاَنَـامِ لَھَلَکَ الْمُقَامُ۔‘‘ (ترجمہ) اگر تمام مخلوق سے بہتر شخص نہ ہوتا تو یہ مقام تباہ ہوجاتا۔‘‘