تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 659 of 1089

تذکرہ — Page 659

اِس وحی کے بعد مَیں کسی کو آواز مار کر اِس طرح سے پکارتا ہوں۔فتح۔فتح گویا اُس کا نام فتح ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر۴ مورخہ ۲۴ ؍ جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۱ نمبر۳مورخہ ۲۴ ؍ جنوری۱۹۰۷ء صفحہ ۱) ۲۳جنوری۱۹۰۷ء ’’ اِنِّیْ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ۔اَصْـرِفُ عَنْکَ سُوْٓءَ الْاَقْدَارِ۔‘‘۱؎ (بدر جلد ۶ نمبر۴ مورخہ ۲۴ ؍ جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) یکم فروری۱۹۰۷ء ’’روشن نشان اور ہماری فتح ‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۳۶) ۳؍ فروری۱۹۰۷ء ’’ یکم فروری کے بعد کی رات کا الہام بوقت تین بجے بعد آدھی رات۔اِنَّـمَا یُـرِیْدُ اللّٰہُ لَکُمُ الْیُسْـرَ۔اُلْـحِقَ بِشِیْعَۃِ مُوْسٰی۔وَ رَضِـیَ اللّٰہُ بِہٖ قَوْلًا۔یعنی خدا تمہارے لئے آرام اور سہولت کا ارادہ کرتا ہے اور اس شخص کو یا ان اشخاص کوموسیٰ کے خاص گروہ میں داخل کردیا گیا اور خدا اس کام کے ساتھ راضی ہوا۔پھر ساتھ اس کے الہام۔اِنَّـمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا۔یعنی اے گھر کے لوگو یہ کام اس کےلئے ہے تا خدا تمہارے دلوں کی پلیدی اپنے امتحان کےساتھ دور کرے اور تمہیں پاک کرے جیسا کہ شرط ہے پاک کرنے کی۔‘‘ (کاپی الہامات۳؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۳۶، ۱۳۵) ۱ (ترجمہ) تحقیق مَیں رحمٰن ہوں۔مَیں بُری قضاء و قدر تجھ سے پھیر دوں گا۔یعنی بعض بلائیں جو مقدّر ہیں وہ ظہور میں نہیں آئیں گی۔(بدر مورخہ ۲۴ ؍ جنوری۱۹۰۷صفحہ ۳) ۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۷؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۳ اور الحکم مورخہ ۱۰؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں یہ الہام بایں الفاظ درج ہے۔۱۔روشن نشان۔۲۔ہماری فتح ہوئی جبکہ بدر مورخہ۴؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ پر جب یہ الہام دوبارہ چھپا ہے تو وہاں یہ الفاظ ہیں ’’ روشن نشان اور ہماری فتح۔‘‘ ممکن ہےکہ یہ دوسری قراءت ہو۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو اِس الہام کا عربی میں ترجمہ فرمایا ہے اس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔وہ عربی ترجمہ یہ ہے۔’’ اَ لْاٰیَۃُ الْمُنِیْرَۃُ وَ فَتْحُنَا۔‘‘ (الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۰۲) ۳ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۷؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۰؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں صرف الہامات درج ہیں۔