تذکرہ — Page 652
۲۔(رؤیا) ’’اور دیکھا کہ میں حاکم ہوں اور مقدمات کو فیصلہ کرتا ہوں ایک شخص کا میں نےمقدمہ کرنا چاہا ہے۔اُس نے کہا کہ اس کا نمبر چوتھا ہے۔بہر حال میں نے اس مقدمہ کو لکھنا شروع کردیا۔‘‘ ۳۔’’۱۔نِلْتَ خَیْرًا وَّ رُشْدًا۔۲۔یُکْرِمُ اللہُ اِکْرَامًا عَـجَبًا۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۴۳، ۱۴۲) ۱۹۰۶ء ’’عبدالکریم۲؎ نام ولد عبدالرحمٰن ساکن حیدر آباد دکھن ہمارے مدرسہ میں ایک لڑکا طالب العلم ہے۔قضاء قدر سے اس کو سگِ دیوانہ کاٹ گیا۔ہم نے اس کو معالجہ کے لئے کسولی بھیج دیا۔چند روز تک اُس کا کسولی میں علاج ہوتا رہا پھر وہ قادیان میں واپس آیا۔تھوڑے دن گزرنے کے بعد اس میں وہ آثار دیوانگی کے ظاہر ہوئے جو دیوانہ کُتّے کے کاٹنے کے بعد ظاہر ہوا کرتے ہیںاور پانی سے ڈرنے لگا اور خوفناک حالت پیدا ہوگئی۔تب اُس غریب الوطن عاجز کے لئے میرا دل سخت بے قرار ہوا اور دُعا کے لئے ایک خاص توجہ پیدا ہوگئی۔ہر ایک شخص سمجھتا تھا کہ وہ غریب چند گھنٹہ کے بعد مَرجائے گا۔ناچار اُس کو بورڈنگ سے باہر نکال کر ایک الگ مکان میں دوسروں سے علیحدہ ہر ایک احتیاط سے رکھا گیا اور کسولی کے انگریز ڈاکٹروں کی طرف تار بھیج دی اور پوچھا گیا کہ اِس حالت میں اس کا کوئی علاج بھی ہے۔اُس طرف سے بذریعہ تار جواب آیا کہ اَب اس کا کوئی علاج نہیں۔مگر اُس غریب اور بے وطن لڑکے کے لئے میرے دل میں بہت توجہ پیدا ہوگئی اور میرے دوستوں نے بھی اس کے لئے دعا کرنے کے لئے بہت ہی اصرار کیا کیونکہ اس غربت کی حالت میں وہ لڑکا قابلِ رحم تھا اور نیز دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ اگر وہ مَر گیا تو ایک بُرے رنگ میں اُس کی موت شماتت ِ اعدا کا موجب ہوگی۔تب میرا دل اس کے لئے سخت درد اور بے قراری میں مبتلا ہوا اور خارق عادت توجہ پیدا ہوئی جو اپنے اختیار سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ محض خدا تعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوتی ہے۔اور اگر پیدا ہوجائے تو خدا تعالیٰ کے اِذن سے وہ اثر دکھاتی ہے کہ قریب ہے کہ اس سے مُردہ زندہ ہوجائے۔غرض اُس کے لئے اِقبال علی اللہ کی حالت میسّر آگئی اور جب وہ توجہ انتہا تک پہنچ گئی اور درد نے اپنا پورا تسلّط میرے دل پر کرلیا تب اِس بیمار پر جو درحقیقت مُردہ تھا اِس توجہ کے آثار ظاہر ہونے شروع ہوگئے اور یا تو وہ پانی سے ڈرتا اور روشنی سے بھاگتا تھا اور ۱ (ترجمہ از ناشر) ۱۔تو نے بھلائی اور ہدایت پائی۔۲۔اللہ عجیب طور پر بزرگی ظاہر کرے گا۔۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) میاں عبدالکریم صاحبؓ یاد گیر ضلع گلبرگہ ریاست حیدرآباد دکن کے رہنے والے تھے۔آپ اِس واقعہ کے بعد ۲۸ سال تک زندہ رہے اور آخر؍ دسمبر ۱۹۳۴ء میں وفات پائی۔