تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 1089

تذکرہ — Page 42

رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَـمْ مِّنَ السَّمَآءِ۔۳۷۔رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًاوَّاَنْتَ خَیْرُالْوَارِثِیْنَ۔۳۸۔رَبِّ اَصْلِحْ اُمَّۃَ مُـحَمَّدٍ۔۳۹ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْـحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفَاتِـحِیْن۔۴۰۔وَقُلِ اعْـمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔۴۱۔وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَیْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذَالِکَ غَدًا۔۴۲۔وَیُـخَوِّفُوْنَکَ مِنْ دُوْنِہٖ۔۴۳۔اِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا۔۴۴۔سَـمَّیْتُکَ الْمُتَوَکِّلَ۔۴۵۔یَـحْمَدُکَ اللّٰہُ مِنْ عَرْشِہٖ۔۴۶۔نَـحْمَدُکَ وَ نُصَلِّی۔۴۷۔یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطَفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ، وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْکَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔۴۸۔سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِـھِمُ الرُّعْبَ۔۴۹۔اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَانْتَـھٰی اَمْرُالزَّمَانِ اِلَیْنَا۔۵۰۔اَلَیْسَ ھٰذَا بِالْـحَقِّ۔۵۱۔ھٰذَا تَاْوِیْلُ رُؤْیَـایَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَھَا رَبِّیْ حَقًّا۔۵۲۔وَقَالُوْا اِنْ ھٰذَا اِلَّا اخْتِلَاقٌ۔۵۳۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ۔۵۴۔قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ۔۵۵۔وَمَنْ اَظْلَمُ مِـمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِ۔بًا۔بقیہ ترجمہ۔۳۶۔اے میرے رب مغفرت فرما اور آسمان سے رحم کر۔۳۷اے میرے ربّ مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تُو خیرالوارثین ہے۔۳۸۔اے میرے ربّ اُمّتِ محمدیہ کی اصلاح کر۔۳۹۔اے ہمارے ربّ ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کردے اور تُو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔۴۰اور اُن کو کہہ کہ تم اپنے طور پر اپنی کامیابی کے لئے عمل میں مشغول رہو اور میں بھی عمل میں مشغول ہوںپھر دیکھو گے کہ کس کے عمل میں قبولیت پید اہوتی ہے۔؎۱ ۴۲اللہ کے سوا تجھے اوروں سے ڈراتے ہیں۔۴۳تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔۴۴۔میں نے تیرانام متوکّل رکھا ہے۔۴۵خدا عرش پر سے تیری تعریف کررہا ہے۔۴۶ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔۴۷۔لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھادیں مگر خدا اس نور کو نہیں چھوڑے گا جب تک پورا نہ کرلے اگرچہ منکر کراہت کریں۔۴۸۔ہم عنقریب ان کے دلوں میں رعب ڈالیں گے۔۴۹۔جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اور زمانہ ہماری طرف رجوع کرلے گا۔۵۰تو کہا جائے گا کہ کیا یہ سچ نہ تھا جیسا کہ تم نے سمجھا۔؎۲ ۵۲۔اور کہیں گے کہ یہ تو صرف ایک بناوٹ ہے۔۵۳کہہ خدا نے یہ کلا م اتارا ہے پھر ان کو لہو ولعب کے خیالات میں چھوڑ دے۔۵۴کہہ اگر میں نے افترا کیا ہے تو میری گردن پر میرا گناہ ہے ۵۵۔اور افترا کرنے والے سے بڑھ کر کون ظالم ہے۔۱ (ترجمہ از مرتّب) ۴۱ اور تُو کسی کام کے متعلق یہ بات ہرگز نہ کہہ کہ میں کل اسے ضرور کروں گا۔۲ (ترجمہ از مرتّب) ۵۱ یہ میری پہلے کی رؤیا کی حقیقت ہے جسے میرے ربّ نے پورا کرکے سچا ثابت کردیا۔