تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 626 of 1089

تذکرہ — Page 626

اَرَادَ اللّٰہُ اَنْ یَّبْعَثَکَ مَقَامًا مَّـحْمُوْدًا۔دو نشان ظاہر ہوں گے۔وَامْتَازُوا خدا نے ارادہ کیا ہے جو تجھے وہ مقام بخشے جس میں تُو تعریف کیا جائے گا۔دو نشان ظاہر ہوں گے۔اور اے الْیَوْمَ اَیُّـھَا الْمُجْرِمُوْنَ۔یَکَادُ الْبَرْقُ یَـخْطَفُ اَبْصَارَھُمْ۔ھٰذَا الَّذِیْ مجرمو آج تم الگ ہوجاؤ۔خدا کے نشانوں کی برق اُن کی آنکھیں اُچک کر لے جائے گی۔یہ وہی بات ہے کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۔یَـا اَحْـمَدُ فَاضَتِ الرَّحْـمَۃُ عَلٰی شَفَتَیْکَ۔کَلَامٌ جس کے لئے جلدی کرتے تھے۔اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری ہے۔تیرا کلام اُفْصِحَتْ مِنْ لَّدُنْ رَبٍّ کَرِیْمِ۔در کلامِ تو چیزے ست کہ شعرا را دراں دخلے خدا کی طرف سے فصیح کیا گیا ہے۔تیرے کلام میں ایک چیز ہے جس میں شاعروں کو دخل نیست۔رَبِّ عَلِّمْنِیْ مَا ھُوَ خَیْرٌ عِنْدَکَ۔یَعْـصِمُکَ اللّٰہُ مِنَ الْعِدَا نہیں ہے۔اے میرے خدا مجھے وہ سکھلا جو تیرے نزدیک بہتر ہے۔تجھے خدا دشمنوں سے بچائے گا وَ یَسْطُوْ بِکُلِّ مَنْ سَطَا۔بَـرَّزَ مَا عِنْدَ ھُمْ مِّنَ الرِّمَاحِ۔اِنِّیْ سَاُخْبِرُہٗ اور حملہ کرنے والوں پر حملہ کردے گا۔انہوں نے جو کچھ ان کے پاس ہتھیار تھے سب ظاہر کردیئے۔مَیں مولوی محمد حسین بٹالوی کو فِیْ اٰخِرِ الْوَقْتِ اَنَّکَ لَسْتَ عَلَی الْـحَقِّ۔اِنَّ اللّٰہَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۔اِنَّـا اَلَنَّا لَکَ آخر وقت میں خبر دے دوں گا کہ تُو حق پر نہیں ہے۔خدا رؤف و رحیم ہے۔ہم نے تیرے لئے الْـحَدِیْدَ۔اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اُجِیْبُ۔لوہے کو نرم کردیا۔مَیں فوجوں کے ساتھ ناگہانی طور پر آؤں گا۔مَیں رسول کے ساتھ ہوکر جواب دوں گا۔اُخْطِیْ وَ اُصِیْبُ۱؎۔وَ قَالُوْا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔قُلْ ھُوَ اللّٰہُ عَـجِیْبٌ۔اپنے ارادہ کو کبھی چھوڑ بھی دوں گا اور کبھی ارادہ پورا کروں گا۔اور کہیں گے کہ تجھے یہ مرتبہ کہاں سے حاصل ہوا؟ کہہ خدا ذوالعجائب ہے۔۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اِس وحیِ الٰہی کے ظاہری الفاظ یہ معنے رکھتے ہیں کہ مَیں خطا بھی کروں گا اور صواب بھی۔یعنی جو مَیں چاہوں گا کبھی کروں گا اور کبھی نہیں۔اور کبھی میرا ارادہ پورا ہوگا اور کبھی نہیں۔ایسے الفاظ خدا تعالیٰ کی کلام میں آجاتے ہیں۔جیسا کہ احادیث میں لکھا ہے کہ مَیں مومن کی قبضِ روح کے وقت تردّد میں پڑتا ہوں حالانکہ خدا تردّد سے پاک ہے۔اِسی طرح یہ وحیِ الٰہی ہے کہ کبھی میرا ارادہ خطا جاتا ہے اور کبھی پُورا ہوجاتا ہے۔اس کے یہ