تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 1089

تذکرہ — Page 41

نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرٌ۔۱۳۔اِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَـھْزِئِیْنَ۔۱۴۔یَقُوْلُوْنَ اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔۱۵۔اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔۱۶۔اِنْ ھٰذَا اِلَّا قَوْلُ الْبَشَـرِ۔۱۷ وَ اَعَانَہٗ عَلَیْہِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ۔۱۸۔اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِـرُوْنَ۔۱۹۔ھَیْھَاتَ ھَیْھَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۔۲۰ مِنْ ھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ مَھِیْنٌ۔۲۱ وَّ لَا یَکَادُ یُبِیْنُ۔۲۲ جَاھِلٌ اَوْ مَـجْنُوْنٌ۔۲۳ قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُم اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ۔۲۴ ھٰذَا مِنْ رَّحْـمَۃِ رَبِّکَ۔۲۵ یُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ۔۲۶ لِیَکُوْنَ اٰیَۃً لِّلْمُوْمِنِیْنَ۔۲۷ اَنْتَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَبِّکَ۔۲۸ فَبَشِّـرْ وَمَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِـمَجْنُوْنٍ۔۲۹ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُـحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُـحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔۳۰۔اِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَھْزِئِیْنَ۔۳۱ ھَلْ اُنَبِّئْکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُ۔تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ۔۳۲۔قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ۔۳۳ قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ؎۱ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔۳۴ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ۔۳۵۔رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُـحْیِ الْمَوْتٰی۔بقیہ ترجمہ۔اور خدا ان کی مدد کرے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔۱۳وہ لوگ جو تیرے پر ہنسی کرتے ہیں ان کے لئے ہم کافی ہیں۔۱۴۔اور لوگ کہیں گے کہ یہ مقام تجھے کہاں سے حاصل ہوگیا۔۱۵ یہ مقام تجھے کہاں سے حاصل ہوگیا۔۱۶ یہ جو الہام کرکے بیان کیا جاتا ہے یہ تو انسان کا قول ہے ۱۷اور دوسروں کی مدد سے بنایا گیا ہے۔۱۸اے لوگو! کیا تم ایک فریب میں دیدہ و دانستہ پھنستے ہو۔۱۹جو کچھ تمہیں یہ شخص وعدہ دیتا ہے اس کا ہونا کب ممکن ہے۔۲۰پھر ایسے شخص کا وعدہ جو حقیر اور ذلیل ہے۔؎۲ ۲۲۔یہ تو جاہل ہے یا دیوانہ ہے۔۲۳کہہ اس پر دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو یعنی مقابلہ کرکے دکھلاؤ۔۲۴۔یہ مرتبہ تیرے ربّ کی رحمت سے ہے۔۲۵۔۔وہ اپنی نعمت تیرے پر پوری کرے گا۔۲۶تاکہ لوگوں کے لئے نشان ہو۔۲۷تو خدا کی طرف سے کھلی کھلی دلیل کے ساتھ ظاہر ہوا ہے۔۲۸۔پس تو خوشخبری دےا ور خدا کے فضل سے تو دیوانہ نہیں ہے۔۲۹کہہ اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے۔۳۰۔وہ لوگ جو تیرے پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں ان کے لئے ہم کافی ہیں۔۳۱کہہ کیا میں تمہیں بتلاؤں کہ کن لوگوں پر شیطان اُترا کرتے ہیں۔ہر ایک کذّاب بدکار پر شیطان اُترتے ہیں۔۳۲اُن کو کہہ کہ میرے پاس خد اکی گواہی ہے پس کیا تم ایمان لاؤ گے یا نہیں۔۳۳۔ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم قبول کرو گے یا نہیں۔۳۴میرے ساتھ میرا ربّ ہے عنقریب وہ میرا راہ کھول دے گا۔۳۵۔اے میرے ربّ مجھے دکھلا کہ تُو کیوں کر مُردوں کو زندہ کرتا ہے۔۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ فقرہ دو مرتبہ فرمایا گیا… اس میں ایک شہادت سے مراد کسوفِ شمس ہے اور دوسری شہادت سے مراد خسوفِ قمر ہے۔‘‘ (اربعین نمبر۳۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۱۵، ۴۱۶) ۲ (ترجمہ از ناشر) ۲۱ اوروہ اظہار بیان کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔