تذکرہ — Page 625
رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا اِنَّـا کُنَّا خَاطِئِیْنَ۔یَـا نَبِیَّ اللّٰہِ کُنْتُ لَا اَعْرِفُکَ۔ہوئے کہ اے خدا ہمیں بخش اور ہمارے گناہ معاف کر ہم خطا پر تھے۔اور زمین کہے گی کہ اے خدا کے نبی مَیں تجھے شناخت نہیں لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَ ھُوَ اَرْحَـمُ الرَّاحِـمِیْنَ۔کرتی تھی۔اے خطا کارو! آج تم پر کوئی ملامت نہیں خدا تمہارے گناہ بخش دے گا وہ اَرحم الراحمین ہے۔تَلَــطَّفْ بِـالنَّاسِ وَ تَرَحَّـمْ عَلَیْـھِمْ۔اَنْتَ فِیْـھِمْ بِـمَنْزِلَۃِ موسٰی۔یَـاْتِیْ لوگوں کے ساتھ لُطف اور مدارات سے پیش آ۔تُو مجھ سے۱؎ بمنزلہ موسیٰ کے ہے۔تیرے پر عَلَیْکَ زَمَنٌ کَمِثْلِ زَمَنِ مُوْسٰی۔اِنَّـا اَرْسَلْنَا اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا شَاھِدًا موسیٰ کے زمانہ کی طرح ایک زمانہ آئے گا۔ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے اُسی رسول عَلَیْکُمْ کَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا۔آسمان سے بہت دُودھ اُترا ہے محفوظ رکھو۔کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔آسمان سے بہت دُودھ اُترا ہے یعنی معارف اور حقائق کا دُودھ۔اِنِّیْ اَنَـرْتُکَ وَاخْتَرْتُکَ۔تیری خوش زندگی کا سامان ہوگیا ہے۔وَاللّٰہُ خَیْرٌ مَیں نے تجھے روشن کیا اور چُن لیا اور تیری خوش زندگی کا سامان ہوگیا ہے۔خدا ہر چیز سے مِّنْ کُلِّ شَیْءٍ۔عِنْدِیْ حَسَنَۃٌ ھِیَ خَیْرٌ مِّنْ جَبَلٍ۔بہت سے سلام میرے بہتر ہے۔میرے قُرب میں ایک نیکی ہے جو وہ ایک پہاڑ سے زیادہ ہے۔تیرے پر بہ کثرت میرے تیرے پر ہوں۔اِنَّـآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَـوْثَـرَ۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اھْتَدَ وْا وَالَّذِیْنَ سلام ہیں۔ہم نے کثرت سے تجھے دیا ہے۔خدا اُن کے ساتھ ہے جو راہِ راست اختیار کرتے ہیں اور جو ھُمْ صَادِقُوْنَ۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّـحْسِنُوْنَ۔صادق ہیں۔خدا اُن کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور نیکو کار ہیں۔بقیہ حاشیہ۔اور ہر ایک آفت کے وقت سخت غم اور اندیشہ دامنگیر ہوتا کہ شاید وہ وقت آگیا اور تاخیر کا کچھ اعتبار نہ ہوتا۔اور اَب تو تاخیر ایک شرط کے ساتھ مشروط ہوکر معیّن ہوگئی۔منہ ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۳حاشیہ) ۱ نقل مطابق اصل (سیّد عبد الحی ٔ)