تذکرہ — Page 40
صَلَّی اللّٰہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔فَتَبَارَکَ مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ۔۹قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ۔۱۰۔ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدیٰ وَدِیْنِ الْـحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ؎۱ ۱۱لَا مُبَدِّ لَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ۔۱۲ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی بقیہ ترجمہ۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔پس بڑا مبارک وہ ہے جس نے تعلیم دی اور جس نے تعلیم پائی۔۹کہہ اگر میں نے افترا کیا ہے تو میری گردن پر میرا گناہ ہے۔۱۰خدا وہ خدا ہے جس نے اپنا رسول اور اپنا فرستادہ اپنی ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس دین کو ہر قسم کے دین پر غالب کرے۔۱۱خدا کی باتوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔۱۲ان پر ظلم ہوا بقیہ حاشیہ۔(ترجمہ از مرتّب) یعنی اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ سے حکم پاکر اس کی طرف سب سے پہلا رجوع کرنے والا یا یہ کہ اس فرمان الٰہی پر سب سے پہلے ایمان لانے والا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔(الف) مجھ کو یاد ہے کہ ابتدائے وقت میں جب میں مامور کیا گیا تو مجھے یہ الہام ہوا کہ جو براہین کے صفحہ ۲۳۸ میں مندرج ہے۔یَآ اَحْـمَدُ بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ (تا) وَ اَنَـا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔(آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۱۰۹ حاشیہ) (ب) ’’ناگہاں عنایت ازلی سے مجھے یہ واقعہ پیش آیا کہ یک دفعہ شام کے قریب…مجھے خدائے تعالیٰ کی طرف سے کچھ خفیف سی غنودگی ہوکر یہ وحی ہوئی۔‘‘ (نصـرۃ الـحق۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۶۶) (ج) جب تیرھویں صدی کا اخیر ہوا اورچودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدّد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہواکہ اَلرَّحْـمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ (تا) وَ اَنَـا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔‘‘ (کتاب البریّہ۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ ۲۰۱ حاشیہ) (د) اس الہام کے رُو سے خدا نے مجھے علومِ قرآنی عطا کئے ہیں اور میرا نام اوّل المؤمنین رکھا اور مجھے سمندر کی طرح معارف اور حقائق سے بھردیا ہے اور مجھے بار بار الہام دیا ہے کہ اس زمانہ میں کوئی معرفت الٰہی اور کوئی محبت الٰہی تیری معرفت اور محبت کے برابر نہیں۔‘‘ (ضرورۃ الامام۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۵۰۲) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ اَیْ لِیُظْھِرَ دِیْـنَ الْاِسْلَامِ بِـالْـحُــجَــجِ الْقَاطِعَـۃِ وَالْبَرَاھِیْنِ السَّاطِعَۃِ عَلٰی کُلِّ دِیْنٍ مَا سِوَاہُ۔اَیْ یَنْصُـرُ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْمَظْلُوْمِیْنَ بِاِشْـرَاقِ دِیْنِـھِمْ وَاِتْـمَامِ حُـجَّتِـھِمْ۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ۲۶۵ حاشیہ نمبر۱) (ترجمہ از مرتّب) یعنی اللہ تعالیٰ دین اسلام کو دلائلِ قاطعہ اور براہینِ ساطعہ کے ساتھ دیگر تمام ادیان پر غالب کرکے اور اس کی حُجّت دوسرے لوگوں پر قائم کرکے مظلوم مومنوں کی نصرت فرمائے گا۔(نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمد ؓ) اِس وحیِ الٰہی کی تفسیر رسالہ اربعین نمبر۲ روحانی خزائن جلد ۱۷ کے صفحات ۳۵۶ تا ۳۶۰ پر بیان ہوئی ہے اور اس کے ظہور کی تفصیل تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ کے صفحات ۲۳۰ تا ۲۳۳ اور ۲۴۸ تا ۲۵۰ پر درج ہے۔