تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 608 of 1089

تذکرہ — Page 608

یَـمِیْـزَ الْـخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ۔اِذَا جَآءَ نَصْـرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَتَـمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ جب تک کہ پاک اور پلید میں فرق کرکے نہ دکھلاوے۔اور جب خدا تعالیٰ کی مدد اور فتح آئے گی اور خدا کا وعدہ پُورا ہوگا ھٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۔اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَـخَلَقْتُ تب کہا جائے گا کہ یہ وہی امر ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے۔مَیں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں سو مَیں نے اِس آدم کو اٰدَمَ۔دَنٰی فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی۔یُـحْیِ الدِّیْنَ وَ پیدا کیا۔وہ خدا سے نزدیک ہوا پھر مخلوق کی طرف جھُکا اور خدا اور مخلوق کے درمیان ایسا ہوگیا جیسا کہ دو قوسوں کے درمیان کا خط ہوتا ہے۔یُقِیْمُ الشَّـرِیْعَۃ۔یَـا اٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْـجَنَّۃَ۔یَـا مَرْیَمُ دین کو زندہ کرے گا اور شریعت کو قائم کرے گا۔اے آدم تُو اور تیرے دوست بہشت میں داخل ہو۔اے مریم اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْـجَنَّۃَ۔یَا اَحْـمَدُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْـجَنَّۃَ۔تُو اور تیرے دوست بہشت میں داخل ہو۔اے احمد! تُو اور تیرے دوست بہشت میں داخل ہو۔نُصِـرْتَ وَ قَالُوْا لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ۔اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ تجھے مدد دی جائے گی اور مخالف کہیں گے کہ اب گریز کی جگہ نہیں۔وہ لوگ جو کافر ہوئے اور خدا کے بقیہ حاشیہ۔میرزا محمد بیگ۔میرزا محمدبیگ کے والد میرزا عبدالباقی۔میرزا عبدالباقی کے والد میرزا محمد سلطان۔میرزا محمد سلطان کے والد میرزا ہادی بیگ۔معلوم ہوتا ہے کہ میرزا اور بیگ کا لفظ کسی زمانہ میں بطور خطاب کے ان کو ملا تھا جس طرح خان کا نام بطور خطاب دیا جاتا ہے۔بہرحال جو کچھ خدا نے ظاہر فرمایا ہے وہی درست ہے۔انسان ایک ادنیٰ سی لغزش سے غلطی میں پڑ سکتا ہے مگر خدا سہو اور غلطی سے پاک ہے۔۱؎ منہ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۹ تا ۸۱ حاشیہ) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’میرے خاندان کی نسبت ایک اَور وحیِ الٰہی ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا میری نسبت فرماتا ہے سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ (ترجمہ) سلمان یعنی یہ عاجز جو دو صلح کی بنیاد ڈالتا ہے ہم میں سے ہے جو اہلِ بَیت ہیں۔یہ وحیِ الٰہی اس مشہور واقعہ کی تصدیق کرتی ہے جو بعض دادیاں اِس عاجز کی سادات میں سے تھیں اور دو صلح سے مراد یہ ہے کہ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ ایک صلح میرے ہاتھ سے اور میرے ذریعہ سے اسلام کی اندرونی فرقوں میں ہوگی اور بہت کچھ تفرقہ اُٹھ جائے گا اور دوسری صلح اسلام کے بیرونی دشمنوں کے ساتھ ہوگی کہ بہتوں کو اسلام کی حقانیت کی سمجھ دی جائے گی اور وہ اسلام میں داخل ہوجائیں گے تب خاتمہ ہوگا۔منہ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۸۱حاشیہ در حاشیہ)