تذکرہ — Page 39
۱۸۸۲ء’’وَکُنْتُ؎۱ ذَاتَ لَیْلَۃٍ اَکْتُبُ شَیْئًا۔فَنِمْتُ بَیْنَ ذَالِکَ فَرَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ وَجْھُہٗ کَالْبَدْرِ التَّآمِّ فَدَ نَا مِنِّیْ کَاَنَّہٗ یُرِیْدُ اَنْ یُّعَانِقَنِیْ فَکَانَ مِنَ الْمُعَانِقِیْنَ وَرَاَیْتُ اَنَّ الْاَنْوَارَ قَدْ سَطَعَتْ مِنْ وَّجْھِہٖ وَنَزَلَتْ عَلَیَّ کُنْتُ اَرَاھَا کَا لْاَنْوَارِ الْمَحْسُوْسَۃِ حَتّٰی اَیْقَنْتُ اَنِّیْ اُدْرِکُھَا بِالْـحِسِّ لَا بِبَصَـرِ الرُّوْحِ وَ مَا رَاَیْتُ اَ نَّہُ انْفَصَلَ مِنِّیْ بَعْدَ الْمُعَانَقَۃِ وَمَا رَاَیْتُ اَنَّہٗ کَانَ ذَاھِبًا کَالذَّاھِبِیْنَ ثُمَّ بَعْدَ تِلْکَ الْاَیَّـامِ فُتِحَتْ عَلَیَّ اَبْوَابُ الْاِلْھَامِ وَ خَاطَبَنِیْ رَبِّیْ وَ قَالَ۔یَـا اَحْـمَدُ بَـارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ ‘‘ الخ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۵۵۰) مارچ ۱۸۸۲ء ۱ یَـا اَحْـمَدُ بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ۔۲ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِن اللّٰہَ رَمٰی۔۳۔اَلرَّحْـمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۔۴ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَآ ؤُ ھُمْ۔۵۔وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۔۶۔قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔؎۲ ۷قُلْ جَآءَ الْـحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَا طِلَ کَانَ زَھُوْقًا۔۸کُلُّ بَرَکَۃٍ مِّنْ مُّـحَمَّدٍ (ترجمہ٭) ۱اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے۔۲جو کچھ تُونے چلایا یہ تُو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔۳خدا نے تجھے قرآن سکھلایا۔۴تا کہ تو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے۔۵اور تاکہ مجرموں کی راہ کھل جائے۔۶کہہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور میں سب سےپہلے ایمان لانے والا ہوں۔۷کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل بھاگنے والا ہی تھا۔۸ ہر ایک برکت ۱ (ترجمہ از مرتّب) اور ایک رات میں کچھ لکھ رہا تھا کہ اسی اثناء میں مجھے نیند آگئی اور میں سو گیا اس وقت میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپؐ کا چہرہ بدرِ تام کی طرح درخشاں تھا۔آپؐ میرے قریب ہوئے اور میں نے ایسا محسوس کیا کہ آپؐ مجھ سے معانقہ کرنا چاہتے ہیں چنانچہ آپؐ نے مجھ سے معانقہ کیا اور میں نے دیکھا کہ آپؐ کے چہرہ سے نور کی کرنیں نمودار ہوئیں اور میرے اندر داخل ہوگئیں۔میں ان انوار کو ظاہری روشنی کی طرح پاتا تھا اور یقینی طور پر سمجھتا تھا کہ میں انہیں محض روحانی آنکھوں سے ہی نہیں بلکہ ظاہری آنکھوں سے بھی دیکھ رہا ہوںاور اس معانقہ کے بعدنہ ہی میں نے یہ محسوس کیا کہ آپ مجھ سے الگ ہوئے ہیں اور نہ ہی یہ سمجھا کہ آپ تشریف لے گئے ہیں۔اس کے بعد مجھ پر الہام الٰہی کے دروازے کھول دیئے گئے اور میرے ربّ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا۔یَآ اَحْـمَدُ بَا رَکَ اللّٰہُ فِیْکَ الخ ۲ اَیْ اَوَّلُ تَـائِبٍ اِلَی اللّٰہِ بِأَمْرِ اللّٰہِ فِیْ ھٰذَا الزَّمَانِ۔اَوْ اَوَّلُ مَنْ یُّؤْمِنُ بِـھٰذَا الْاَمْرِ۔وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔(براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ ۲۶۵ حاشیہ نمبر۱ ) ٭ ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مختلف کتب سے لیا گیا ہے۔(شمس)