تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 604 of 1089

تذکرہ — Page 604

فِیْـھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْـھَا قَالَ اِنِّیْ اَعْلَمُ مَا لَاتَعْلَمُوْنَ۔اِنِّیْ مُھِیْنٌ شخص کو خلیفہ بناتا ہے جو زمین پر فساد کرتا ہے۔اُس نے کہا کہ اس کی نسبت جو کچھ مَیں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔مَیں اُس شخص کی اہانت مَّنْ اَرَادَ اِھَانَـتَکَ۔اِنِّیْ لَا یَـخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ۔کَتَبَ اللّٰہُ کروں گا جو تیری اِہانت کا ارادہ کرے گا۔میرے قُرب میں میرے رسول کسی دشمن سے نہیں ڈرا کرتے۔خدا نے لکھ چھوڑا ہے لَاَغْلِبَنَّ اَنَـا وَ رُسُلِیْ۔۱؎ وَ ھُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِـھِمْ سَیَغْلِبُوْنَ۔اِنَّ اللّٰہَ کہ مَیں اور میرے رسول غالب رہیں گے اور وہ مغلوب ہونے کے بعد جلد غالب ہوجائیں گے۔خدا اُن کے مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مُّـحْسِنُوْنَ۔اُرِیْکَ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور وہ جو نکو کار ہیں۔قیامت کے مشابہ ایک زلزلہ آنے والا ہے جو تمہیں دکھاؤں گا اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّـھَا الْمُجْرِمُوْنَ۔جَآءَ الْـحَقُّ اور مَیں ہر ایک کو جو اِس گھر میں ہے نگہ رکھوں گا۔اے مجرمو! آج تم الگ ہوجاؤ۔حق آیا وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ ھٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْـجِلُوْنَ۔بِشَارَۃٌ تَلَقَّاھَا النَّبِیُّونَ۔اور باطل بھاگ گیا۔یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم جلدی کرتے تھے۔یہ وہ بشارت ہے جو نبیوں کو ملی تھی۔اَنْتَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّکَ۔کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَھْزِئِیْنَ۔ھَلْ اُنَبِّئُکُمْ تُو خدا کی طرف سے کھلی کھلی دلیل کے ساتھ ظاہر ہوا ہے۔وہ لوگ جو تیرے پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں اُن کے لئے ہم کافی ہیں۔کیا مَیں تمہیں بقیہ حاشیہ۔اس کو اُمّت کی خشک جڑھ کے سامنے لائی۔جس میں فہم اور تقویٰ کا پھل نہیں تھا اور وہ تیار تھے کہ ایسا دعویٰ سن کر اِفتراء کی تہمتیں لگاویں اور دُکھ دیں اور طرح طرح کی باتیں اُس کے حق میں کریں۔تب اُس نے اپنے دِل میں کہا کہ کاش مَیں پہلے اس سے مَر جاتا اور ایسا بھولا بسرا ہوجاتا کہ کوئی میرے نام سے واقف نہ ہوتا۔منہ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۵ حاشیہ) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اِس وحیِ الٰہی میں خدا نے میرا نام رُسُل رکھا کیونکہ جیسا کہ براہین احمدیہ میں لکھا گیا ہے خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔مَیں آدم ہوں۔مَیں شیث ہوں۔مَیں نوح ہوں۔مَیں ابراہیم ہوں۔مَیں اسحٰق ہوں۔مَیں اسمٰعیل ہوں۔مَیں یعقوب ہوں۔مَیں یوسف ہوں۔مَیں موسیٰ ہوں۔مَیں داؤد ہوں۔مَیں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا مَیں مظہرِ اَتم ہوں۔یعنی ظِلّی طور پر محمّدؐ اور احمد ؐ ہوں۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۶حاشیہ