تذکرہ — Page 599
تعطیر الانام میں تعبیر یہ لکھی ہے کہ دائمی رزق اور وسیع رزق اور ذخیرہ خور رزق اور دنیا کی تازگی ہے۔اور ایک خوشہ اس کا ہزار درم تک ہے۔اور نیز اس کی تعبیر مرض سے شفا اور بہتری ہے کیونکہ حضرت نوح کو سِل ہوگئی تھی اور خدا تعالیٰ کا ان کو حکم ہوا تھا کہ انگور کھاؤ۔پس انگور سے سِل جاتی رہی تھی۔اور انگور سے مراد وہ منافع ہیں جو عورتوں سے یا عورتوں کے سبب سے حاصل ہوتے ہیں اور وہ رزق پاک ہے اور اُلفت اور محبت پر دلالت کرتا ہے یعنی ایسے شخص سے لوگ محبت کرتے ہیں اور کریم لوگوں کی طر ف سے رزق پہنچتا ہے۔۲۱؍جون ۱۹۰۶ء روز پنج شنبہ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۱۷، ۲۱۶، ۲۱۵، ۲۱۴، ۲۱۳، ۲۱۲، ۲۱۱) ۲۳؍جون ۱۹۰۶ء ’’ ۱۔خوش قسمتی سے میرا بیڑا پار ہوگیا۔۲۔رَبِّ اِنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۵۱) (ترجمہ) اے میرے خدا مَیں مغلوب ہوں میرا انتقام دشمنوں سے لے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۱۰۷) ۲۸؍جون ۱۹۰۶ء ’’۱۔آج ۲۸؍ جون ۱۹۰۶ء کو معلوم ہوا اس لڑکے کا نام کلمۃ اللہ خان بھی ہوگا اور شادی خان بھی نام ہوگا۔۲۔اُس کی تعظیم ملوک اور ذو الجبروت کرتے ہیں۔۳۔لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۳۷) (ترجمہ) اُس دن کہا جائے گا آج کس کا ملک ہے کیا اس خدا کا ملک نہیں جو سب پر غالب ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۹۶) جون ۱۹۰۶ء ’’۱۔اِنِّیْ مَعَ الْکُفَّارِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔۔۲۔مَا اُرْسِلَ نَبِیٌّ اِلَّا اَخْزٰی بِہِ اللّٰہُ قَوْمًا لَّا یُـؤْمِنُوْنَ۔۱؎ ۳۔اللہ تعالیٰ اُس کو سلامت رکھنا نہیں چاہتا۔۴۔خدا تمہیں سلامت رکھے ۱ (ترجمہ از ناشر) ۱۔میں مسلح لوگوں۲؎ کے ساتھ اچانک تیری مدد کو آؤں گا۔۲۔کوئی نبی نہیں بھیجا گیا مگر خدا نے اس کی وجہ سے اس قوم کو رسوا کیا جو ایمان نہیں لاتے۔۲ (نوٹ از ناشر) ان معنوں کے لئے دیکھئے لسان العرب زیر لفظ ’’کفر‘‘