تذکرہ — Page 38
دی گئی اور اُسی دن شام کو جو اتفاقاً اُنہیں ہندوؤں میں سے ایک شخص؎۱ ڈاک خانہ کی طرف گیا تو وہ ایک صاحب عبد اللہ؎۲خاں نامی کا ایک خط لایا جس کے ساتھ ہی کسی قدر روپیہ بھی آیا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۵۱، ۲۵۲ حاشیہ در حاشیہ نمبر۱) ۲۳ یا ۲۴؍نومبر ۱۸۸۱ء ’’محرم ۱۲۹۹ہجری کی پہلی یا دوسری تاریخ میں ہم کو خواب میں یہ دکھائی دیا کہ کسی صاحب نے مدد کتاب کے لئے پچاس روپیہ روانہ کئے ہیں۔اُسی رات ایک؎۳ آریہ صاحب نے ہمارے لئے خواب دیکھی کہ کسی نے مددِکتاب کے لئے ہزار روپیہ روانہ کیا ہے اور جب انہوں نے خواب بیان کی تو ہم نے اُسی وقت اُن کو اپنی خواب بھی سنا دی اور یہ بھی کہہ دیا کہ تمہاری خواب میں اُنیس حصّے جھوٹ مل گیا ہے اور یہ اُسی کی سزا ہے کہ تم ہندو اور دینِ اسلام سے خارج ہو۔شاید اُن کو گراں ہی گذرا ہوگا مگر بات سچی تھی جس کی سچائی پانچویں یا چھٹے محرم میں ظہور میں آگئی۔یعنی پنجم یا ششم محرم الحرام میں مبلغ پچاس روپیہ جن کو جُونا گڑھ سے شیخ محمد بہاؤالدین صاحب مدارالمہام ریاست نے کتاب کے لئے بھیجا تھا۔کئی لوگوں اور ایک آریہ کے رُوبرو پہنچ گئے۔وَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذَالِکَ۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۲۸۳، ۲۸۴ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱) ۱۸۸۲ء ’’ ایک مرتبہ الہام ہوا جس کے معنی یہ تھے کہ مَلَأِ اَعْلٰی کے لوگ خصومت میں ہیں یعنی ارادہ الٰہی احیاء دین کے لئے جوش میں ہے لیکن ہنوز مَلَأِ اَعْلٰی پر شخص مُـحْيٖ کی تعیین ظاہر نہیں ہوئی اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد نمبر ۱ صفحہ ۵۹۸ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳) ۱۸۸۲ء ’’اسی اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک مُـحْيٖ کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اِس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اُس نے کہا۔ھٰذَا رَجُلٌ یُّـحِبُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے۔اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرطِ اعظم اس عہدہ کی محبت ِ رسول ہے سو وہ اِس شخص میں متحقّق ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۸ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳ ) ۱ بشن داس برہمن۔(مرزا بشیر احمد) ۲ ای۔اے۔سی۔ڈیرہ اسمٰعیل خان۔(مرزا بشیر احمد) ۳ لالہ شرمپت۔(مرزا بشیر احمد)