تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 546 of 1089

تذکرہ — Page 546

۶؍ دسمبر۱۹۰۵ء (الف) ’’ قَرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّرُ۔وَ لَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُـخْزِیَـاتِ ذِکْـرًا۔قَلَّ مِیْعَادُ رَبِّکَ وَ لَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَـاتِ شَیْئًا۔‘‘۱؎ ( بدر جلد ۱ نمبر۳۸ مورخہ۸؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۴۳ مورخہ۱۰؍ دسمبر۱۹۰۵ء صفحہ۱) (ترجمہ) ’’تیری اجل قریب آگئی ہے اور ہم تیرے متعلق ایسی باتوں کا نام و نشان نہیں چھوڑیں گے جن کا ذکر تیری رُسوائی کا موجب ہو۔تیری نسبت خدا کی میعادِ مقررہ تھوڑی رہ گئی ہے اور ہم ایسے تمام اعتراض دُور اور دفع کر دیں گے اور کچھ بھی ان میں سے باقی نہیں رکھیں گے جن کے بیان سے تیری رُسوائی مطلوب ہو۔‘‘ (الوصیّت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۱، ۳۰۲) (ب) ’’ اَلْـحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ اَوْصَلَنِیْ صَـحِیْحًا۔؎۲ ۱ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲میں اس الہام سے متعلق مزید تفصیل یوں مندرج ہے۔’’ وَلَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَـاتِ ذِکْرًا سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی رُسوا کرنے والا ذکر باقی نہ چھوڑیں گے۔یہ بڑا مبشر الہام ہے۔یعنی تیرے آنے کی جو علّتِ غائی ہے اُس کو ہم پورا کردیں گے۔‘‘ ’’ فرمایا۔ان فقرات کے ساتھ لگانے سے صاف منشاء الٰہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب پیغامِ رحلت دیا جاوے گا تو دِل میں یہ خیال پیدا ہوگا کہ ابھی ہمارے فلاں فلاں مقاصد باقی ہیں۔اِس کے لئے فرمایا کہ ہم سب کی تکمیل کریں گے۔فرمایا۔لوگ اکثر غلطی کھاتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ سب اُمور کی تکمیل مامور ہی کرجائے۔وہ بڑی بڑی اُمیدیں باندھ رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سب کچھ مامور اپنی زندگی میں ہی کرکے اُٹھا ہے۔صحابہؓ میں بھی ایسا خیال پیدا ہوگیا تھا کہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہونے کا وقت نہیں آیا کیونکہ دعویٰ تو تھا کہ کل دُنیا کی طرف رسول ہوئے اور ابھی عرب کا بھی بہت سا حصّہ یوں ہی پڑا تھا مگر اللہ تعالیٰ ان سب امور کی تکمیل آہستہ آہستہ کرتا رہتا ہے تاکہ جانشینوں کو بھی خدمت ِ دین کا ثواب ملتا رہے۔‘‘ (از مکتوب بنام چوہدری رستم علی خان صاحب۔مکتوبات احمد۳؎ جلد دوم صفحہ ۶۵۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۲ (ترجمہ از بدر) سب حمد اس اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے صحیح سالم پہنچا دیا۔(بدر مورخہ ۱۹؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۶) ۳ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) یہ مکتوب مورخہ ۶؍دسمبر ۱۹۰۵ء مولوی محمد علی صاحب نے حضرت اقدسؑ کے حکم سے لکھا ہے اور دستخط مولوی صاحب کے ہیں۔