تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 1089

تذکرہ — Page 31

ایک خواب آئی ہے اُس کی تعبیر فرمائیے۔میں نے خواب میں یہ دیکھا ہے کہ ایک تلوار؎۱میرے ہاتھ میں ہے جس کا قبضہ میرے پنجہ میں اور نوک آسمان تک پہنچی ہوئی ہے۔جب میں اُس کو دائیں طرف چلاتا ہوں تو ہزاروں ۱ اس تلوار کی تعریف میں حضورؑ کے الفاظ آئینہ کمالات اسلام میں یوں ہیں۔(الف)’’ وَرَاَیْتُ فِیْ مَنَامٍ کَأَنِّیْ قَائِمٌ فِیْ مَوْطِنٍ وَ فِی یَدِیْ سَیْفٌ مَسْلُوْلٌ، قَائِـمُہٗ فِی اَکُفِّیْ وَ طَرَفَہُ الْاٰخَرُ فِی السَّمَآءِ وَ لَہٗ بَرْقٌ وَ لَمْعَانٌ یَـخْرُجُ مِنْہُ نُوْرٌ کَقَطَرَاتٍ مُتَنَازِلَۃٍ حِیْنًا بَعْدَ حِیْنٍ۔وَ اِنِّی اَضْـرِبُ السَّیْفَ شِـمَالًا وَ جُنُوْبًا وَ بِکُلِّ ضَـرْبَۃٍ اَقْتُلُ اُلُوْفًا مِّنْ اَعْدَآءِالدِّیْنِ۔وَ رَأَیْتُ فِی تِلْکَ الرُّؤْیَـا شَیْخًا صَالِـحًا اِسْـمُہٗ عَبْدَ اللہِ الْغَزْنَوِیْ وَ قَدْ مَاتَ مِنْ سِنِیْنَ۔فَسَأَلْتُہٗ عَنْ تَأوِیْلِ ھٰذِہِ الرُّؤْیَـا۔فَقَالَ اَمَّا السَّیْفُ فَھِیَ الْـحُجَجُ الَّتِیْ اَعْطَاکَ اللہُ وَ نَصَـرَکَ بِالدَّلَائِلِ وَ الْبَرَاھِیْنِ۔وَ اَمَّا ضَرْبَکَ اِیَّاہُ شَـمَالًا وَ جُنُوْبًـا فَھُوَ اِرَآءَتُکَ آیَـاتٍ رُوْحَانِیَۃٍ سَـمَاوِیَّۃٍ وَ أَدِلَّۃٍ عَقْلِیَّۃٍ فَلْسَفِیَّۃٍ لِلْمُنْکِرِیْنَ۔وَ أَمَّا قَتْلَ الْاَعْدَآء فَھُوَ اِفْـحَامُ الْمُخَاصِـمِیْنَ، وَاِسْکَاتُـھُمْ مِنْـھَا۔ھٰذَا تَـأْوِیْلُ رُؤْیَـاکَ وَ اَنْتَ مِنَ الْمُؤَیَّدِیْنَ۔وَ قَدْ کُنْتُ فِیْ أَیَّـامِی الَّتِیْ کُنْتُ فِی الدُّنْیَا أَرْجُوْ وَ اَظُنُّ اَنْ یَّـخْرُجَ رَجُلٌ بِـھٰذِہِ الصِّفَاتِ وَ مَا کُنْتُ اَسْتَیْقِنُ اَنَّہٗ اَنْتَ وَ کُنْتُ عَنْ اَمْرِکَ مِنَ الْغَافِلِیْنَ۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۷۶،۵۷۷) (ترجمہ از مرتّب) میں نے خواب میں دیکھا گویا میں میدان کا ر زار میں کھڑا ہوں اور میرے ہاتھ میں ایک تلوار ہے اس کا دستہ میرے ہاتھوں میں ہے اور اس کی نوک آسمان میں ہے۔اور اس سے نور اس طرح نکل رہا ہے گویا بارش تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد برس رہی ہو اور میں تلوار کبھی دائیں مارتا ہوں اور کبھی بائیں اور ہر ضرب سے میں ہزاروں دشمنانِ دین کو مارتا ہوں اور میں نے اپنی خواب میں ایک شیخ صالح جن کا نام عبد اللہ غزنوی ہے کو دیکھا وہ کئی سال ہوئے فوت ہوچکے ہیں۔پس میں نے ان سے اس خواب کی تعبیر پوچھی۔اس پر انہوں نے کہا سیف سے مراد تو وہ دلائل ہیں جو اللہ نے تمہیں عطا کئے اور وہ مدد ہے جو اللہ نے دلائل و براہین سے تمہاری کی ہے اور آپ کے تلوار کو دائیں اور بائیں چلانے سے مراد آپ کا روحانی سماوی نشانات اور عقلی اور فلسفی دلائل منکرین کو دکھانا ہے۔اور دشمنوں کو قتل کرنے سے مراد ان کا دلائل سے منہ بند کرنا اور ان کو خاموش کرادینا ہے۔یہ ہے تعبیر آپ کے خواب کی اور تم مؤید (من اللہ) لوگوں میں سے ہو۔(نیز انہوں نے فرمایا) جب میں دنیا میں تھا تو امید کرتا تھا اور گمان رکھتا تھا کہ ان صفات کا حامل شخص ظاہر ہو اور میں یہ یقین نہیں کرتا تھا کہ وہ تم ہی ہو۔اور میں آپ کے معاملہ کے بارہ میں غافلوں میں سے تھا۔(ب) حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اور اس تلوار میں سے ایک نہایت تیز چمک نکلتی ہے جیسا کہ آفتاب کی چمک ہوتی ہے اور میں اسے کبھی اپنے دائیں طرف اور کبھی بائیں طرف چلاتا ہوںاور ہر ایک وار سے ہزار ہا آدمی