تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 497 of 1089

تذکرہ — Page 497

(ج) ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام جناب ِ باری میں دعا کررہے تھے کہ نزولِ وحی ہوا۔’’سَلَامًا سَلَامًا۔‘‘؎۱ (بدر جلد ۱ نمبر ۱ مورخہ ۶ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۳) ۲۶ ؍مارچ۱۹۰۵ء ’’چودھری رستم علی ‘‘ (الحکم جلد ۹ نمبر۱۲مورخہ۱۰ ؍ اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۲ ۱) ۲۹ ؍مارچ۱۹۰۵ء ’’۲۹؍ مارچ ۱۹۰۵ء کو اعلیٰ حضرت کو جب کہ آپ دعا کررہے تھے الہام ہوا۔سَلَامًا سَلَامًا۔‘‘ (الحکم جلد ۹ نمبر ۱۱مورخہ۳۱ ؍مارچ ۱۹۰۵ء صفحہ ۱) یکم اپریل۱۹۰۵ء ’’رات کے وقت نزولِ وحی ہوا۔مَـحَوْنَـا نَـارَ جَھَنَّمَ؎۲ فرمایا۔اجتہادی طور پر ایسا خیال آتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ اَب قریباً طاعون کو دُنیا سے اُٹھانے والا ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔یا یہ کہ اِس گاؤں سے اُٹھانے والا ہے۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر ۱ مورخہ ۶ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۳۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۲ ۱) ۳ ؍اپریل۱۹۰۵ء ۱۔’’موت دروازے پر کھڑی ہے۔‘‘ ۲۔’’رؤیا۔دیکھا کہ مرزا نظام الدین کے مکان پر مرزا سلطان احمد کھڑا ہے اور سب لباس سرتاپا سیاہ ہے۔ایسی گاڑھی سیاہی کہ دیکھی نہیں جاتی۔اسی وقت معلوم ہوا کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو سلطان احمد کا لباس پہن کر کھڑا ہے۔اُس وقت مَیں نے گھر میں مخاطب ہوکر کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔تب دو فرشتے اور ظاہر ہوگئے اور تین کرسیاں معلوم ہوئیں اور تینوں پر وہ تین فرشتے بیٹھ گئے اور بہت تیز قلم سے کچھ لکھنا شروع کیا جس کی تیز آواز سنائی دیتی تھی۔ان کے اس طرز کے لکھنے میں ایک رُعب تھا۔مَیں پاس کھڑا ہوں ( کہ بیداری ہوگئی)۔اُسی وقت حضرت اقدس ؑ نے یہ خواب سنایا اور فرمایا کہ کوئی ہیبت ناک نشان ہونے والا ہے۔اِس کی تعبیر یُوں ہے کہ سلطان احمد سے مراد ایسے دلائل اور براہین ہیں جو دلوں پر تسلط کرتے اور دلوں کو پکڑلیتے ہیں اور نظام الدین سے مراد ایسا نشان ہے جس سے دین اسلام کی صلاحیت ہوگی اور اُس کا نظام درست ہوجائے گا۔۱ (ترجمہ از مرتّب) سلامتی سلامتی۔۲ (ترجمہ) ہم نے جہنم کی آگ کو محو کیا۔(بدر مورخہ ۶ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۳۔الحکم مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۲ ۱)