تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 447 of 1089

تذکرہ — Page 447

۱۴؍ اگست۱۹۰۳ء ۱۔’’ ۱۔اَ۔لَّا تَـخَافُوْا وَ لَا تَـحْزَنُوْا۔لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِ۔بِیْنَ۔۲۔لَا تَـخَافُوْا وَ لَا تَـحْزَنُوْا۔لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِ۔بِیْنَ۔۳۔اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَـبْدَہٗ۔۴۔یَـا جِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ۔۵۔کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَـا وَ رُسُلِیْ۔‘‘۱؎ ۲۔’’۱۔یٰسٓ۔۲؎ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔عَلٰی صِـرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ۔؎۳ ۲۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِ۔یْنَ ھُمْ مُّـحْسِنُوْنَ۔؎۴ ۳۔لَا اِلٰہَ؎۵ اِلَّا اَنَـا فَاتَّـخِذْ۔نِیْ وَکِـیْلًا۔؎۶ ۴۔اُکْرِمُکَ؎۷ بَعْدَ تَـوْھِیْنِکَ۔۵۔یَسْئَلُونَکَ عَنْ شَانِکَ۔۶۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ۔؎۸ ۱ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔تم خوف نہ کرو اور غمگین نہ ہو۔جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔۲۔تم خوف نہ کرو اور غمگین نہ ہو۔جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔۳۔کیا اللہ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں۔۴۔اے پہاڑو! اس کے ساتھ خدا کے حضور جھک جاؤ اور اے پرندو! تم بھی۔۵۔اللہ نے لکھ چھوڑا ہے کہ مَیں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔۲ (نوٹ از ناشر) البدرمورخہ ۲۸؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۵۳ اور الحکم مورخہ ۱۷؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰ حاشیہ میں یٰسٓ کے بعد وَالْقُرْاٰنِ الْـحَکِیْمِ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔۳ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔اے سردار تُو خدا کا مُرسل ہے اور راہِ راست پر ہے۔اس کا نزول اس خدا کی طرف سے ہے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔۴ (ترجمہ) ’’۲۔خدا اُن کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور وہ جو نکو کار ہیں۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۵) ۵ (ترجمہ از مرتّب) ۳۔میرے سوا کوئی معبود نہیں۔پس تُو مجھے ہی اپنا کار ساز بنا۔۶ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’جب یہ الہام مجھ کو ہوا تو میرے دل پر ایک لرزہ پڑا اور مجھے خیال آیا کہ میری جماعت ابھی اِس لائق نہیں کہ خدا تعالیٰ ان کا نام بھی لے اور مجھے اس سے زیادہ کوئی حسرت نہیں کہ مَیں فوت ہوجاؤں اور جماعت کو ایسی ناتمام اور خام حالت میں چھوڑ جاؤں۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۳۲۴ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۷ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۲۸؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۵۳ اور الحکم مورخہ ۱۷؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰ حاشیہ میں یہاں ’’اُکْرِمُکَ ‘‘ کی جگہ ’’سَاُکْرِمُکَ ‘‘ کے الفاظ درج ہیں۔۸ (ترجمہ از مرتّب) ۴میں بعد اس کے جو مخالف تیری توہین کریں تجھے عزت دوں گا اور تیرا اِکرام کروں گا۔۵تیری شان کے بارے میں وہ پوچھیں گے ۶تو کہہ وہ خدا ہے جس نے مجھے یہ مرتبہ بخشا ہے۔پھر ان کو لہو و لعب کے خیالات میں چھوڑ دے۔