تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 429 of 1089

تذکرہ — Page 429

نجات دیں گے۔۵۔ہم تجھے غالب کریں گے۔۶۔اور مَیں تجھے ایسی بزرگی دوں گا جس سے لوگ تعجب میں پڑیں گے۔۷۔۱؎ ۸۔مَیں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے اہل کے ساتھ۔۹۔مَیں فوجوں کے ساتھ ناگہانی طور پر آؤں گا۔۱۰۔۲؎‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۹۰، ۹۳، ۹۹، ۱۰۶) ۲ ؍فروری ۱۹۰۳ء ’’دیکھا کہ گویا مرزا خدا بخش دکھلاتے ہیں کہ خون کے چھینٹے ان پر پڑے ہیں کچھ کرتے کے نیچے کے حصہ پر کچھ ساتھ گریبان کے قریب اس پر میں کہتا ہوں کہ یہ تو اُسی طرح چھینٹے معلوم ہوتے ہیں کہ جو عبد اللہ سنوری اور مجھ پر پڑے تھے۔‘‘ (کاپی الہامات۳؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴، ۵) ۳؍ فروری ۱۹۰۳ء (الف) ’’۱۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ۔۲۔اُصَلِّیْ وَ اَصُوْمُ۔۳۔وَ اُعْطِیْکَ مَا یَدُوْمُ۔۴۔اَسْھَرُ وَ اَنَـامُ۔۵۔وَ اَجْعَلُ لَکَ اَنْـوَارَ الْقُدُ وْمِ۔۶۔بَـرَزَ مَا عِنْدَ ھُمْ مِّنَ الرِّمَاحِ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵) (ترجمہ) ’’ ۱۔۔مَیں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔۲۔۴؎۳۔اور وہ چیز تجھے دوں گا جو تیرے ساتھ ہمیشہ رہے گی۔۴۔۵؎۔۵۔اور تیرے لئے اپنے آنے کے نور؎۶ عطاکروں گا۔۶۔انہوں نے جو کچھ ان کے پاس ہتھیار تھے سب ظاہر کردیئے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۹۵ ، ۱۰۶، ۱۰۷) (ب) ’’اِنَّ اللہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۵مورخہ ۷؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶ ) (ترجمہ) خدا اُن کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۱۰۵) ۱ (ترجمہ از مرتّب) ۷۔تیری دعا سنی گئی۔۲ (ترجمہ از مرتّب) ۱۰۔تیری دعا مقبول ہے۔۳ (نوٹ از ناشر) یہ رؤیا البدر مورخہ ۶؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۴ میں بھی باختلافِ الفاظ درج ہے۔۴ (ترجمہ از مرتّب) ۲۔مَیں (تجھ پر) خاص رحمتیں نازل کروں گا اور عام لوگوں سے اپنے عذاب کو روک لوں گا۔۵ (ترجمہ از مرتّب) ۴۔مَیں چشم نمائی بھی کروں گا اور چشم پوشی بھی۔(نوٹ از ناشر) ۱۔الحکم مورخہ ۷؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶ میں یہ الہامات مختلف ترتیب سے درج ہیں۔۲۔الہام ’’۔بَـرَزَ مَا عِنْدَ ھُمْ مِّنَ الرِّمَاحِ‘‘ الحکم مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۳ اور البدر مورخہ ۱۳؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۵ میں بھی درج ہے۔۶ تذکرۃ الشہادتین میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا ترجمہ یوں بھی فرمایا ہے۔’’ اور اپنی تجلّی کے نور تجھ میں رکھ دوں گا۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ ۹)