تذکرہ — Page 385
۲۱؍ اکتوبر ۱۹۰۱ء ’’ قاضی یوسف علی صاحب نعمانی سر رشتہ دار ایگزیکٹو کمیٹی انتظامی کونسل سنگرور ریاست جیند پانچ مہینے سے سخت بیمار تھے۔بیماری کی حالت میں سنگروؔر سے بمشکل دارالامان حضرت امام کے قدموں میں حاضر ہوئے چونکہ ان کی اپنی زندگی کا بالکل بھروسہ نہیں رہا تھا اور زیست سے قطع امید کرکے اس نیت سے کہ امام کے قدموں میں جان نکلے آپڑے یہاں بھی علاج ہوتا رہا اور کوئی فائدہ کی صورت نظر نہ آئی ایک روز وہ سخت بیمار ہوئے یعنی ۲۱؍اکتوبر ۱۹۰۱ء کو ظہر کے وقت سے اُن کی حالت متغیر ہوگئی رانوں تک پیر اور مونڈھوں تک ہاتھ ٹھنڈے یخ ہوگئے بہت کچھ تدبیریں کیں کوئی کارگر نہ ہوئی عشاء کا وقت آگیا اور حالت خراب ہوتی گئی۔رات کے گیارہ بجے وہ حالت پیدا ہوئی جو مایوسی کی حالت تھی اور نصف بدن بے جان ہوگیا اور قریب تھا کہ رُوح پرواز کر جائے۔نبض ایسی کمزور ہوئی کہ گویا ایک کیڑی کی چال سے بھی کم تھی قاضی صاحب نے اپنا آخری وقت قطعی جان لیا اور یقین ہوگیا کہ اب زیست کا پیالہ لبریز ہوگیا کلمہ شہادت پڑھا اور اپنے امام کی تصدیق کی تجدید کی اور اپنے آپ کو خدا کی طرف لگایا۔یہ آخری حالت دیکھ کر صاحبزادہ پِیر سراج الحق صاحب نعمانی گھبرائے اور حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت امام علیہ السلام کو جگا کر یہ ماجرا عرض کیا کہ اب قاضی صاحب کا آخری وقت ہے۔حضرت اقدس نے تین دوائیں اپنے پاس سے اُسی وقت طیّار کرکے صاحبزادہ صاحب کو عنایت کیں اور خود دعا کی۔کچھ منٹ ہی گزرے ہوں گے جو حضرت کو ۲دو رؤیامبشر اور ایک الہام ہوا۔وہ الہام یہ ہے۔ھٰذَا عِلَاجُ الْوَقْتِ وَ الـنِّرْبِسِیْ اس کےمعنے یہ ہوئے کہ یہ جو علاج آپ نے کِیا یہ ایسے ہی آڑے وقت کا علاج ہے اور نِـرْ۔بِسِیْ جو زہروں کو دُور کرنے والی ہے، اس کا استعمال کرو۔سو حضرت اقدس صبح کے وقت نِـرْ۔بِسِیْ اپنے ساتھ لائے اور اس کے استعمال کا حکم دیا۔یہ یقینی بات ہے کہ اِدھر حضرت اقدس نے دُعا کی اور اُدھر الہام اوررؤیاہوا اور اُسی وقت جو ایک منٹ کا فاصلہ بھی بیچ میں نہیں بتاسکتے قاضی صاحب میں رُوح داخل ہوگئی اور آناً فاناً میں تندرست ہوگئے۔‘‘ (الحکم جلد ۵ نمبر۳۹ مورخہ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۱ء صفحہ۱۵، ۱۶)