تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 1089

تذکرہ — Page 321

الْاِنْسَانِیَّۃِ۔فَلَا تَغْفَلُوْا عَنْ ھٰذَا الْمَقَامِ یَا کَافَّۃَ الْبَـرَایَـا۔وَ لَا عَنِ السِّـرِّ الَّذِیْ یُـوْجَدُ فِی الضَّحَایَا۔وَ اجْـعَلُوا الضَّحَایَا۔لِـرُؤْیَۃِ تِلْکَ الْـحَقِیْقَۃِ کَالْـمَـرَایَـا۔وَ لَا تَذْھَلُوْا عَنْ ھٰذِہِ الْوَصَایَـا۔وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوْا رَبَّـھُمْ وَ الْمَنَایَـا۔وَ قَدْ اُشِیْرَ اِلٰی ھٰذَا السِّـرِّ الْمَکْتُومِ۔فِیْ کَلَامِ رَبِّنَا الْقَیُّوْمِ۔فَـقَالَ وَ ھُوَ اَصْدَقُ الـصَّـادِقِیْنَ۔قُلْ اِنَّ صَـلَاتِيْ وَنُسُـكِيْ وَ مَـحْيَايَ وَ مَـمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔فَانْظُرْ کَیْفَ فَسَّـرَ النُّسُکَ بِلَـفْظِ الْـمَـحْـیَا وَ الْـمَـمَاتِ۔وَ اَشَارَ بِہٖ اِلٰی حَقِیْقَۃِ الْاَضْـحَاۃِ۔فَفَکِّرُوْا فِیْہِ یَا ذَوِی الْـحَصَاۃِ۔وَمَنْ ضَـحّٰی مَعَ عِلْمِ حَقِیْقَۃِ ضَـحِیَّتِہٖ۔وَ صِدْقِ طَـوِیَّتِہٖ۔وَ خُلُوْصِ نِیَّتِہٖ۔فَقَدْ ضَـحّٰی بِنَفْسِہٖ وَمُـھْـجَتِہٖ۔وَ اَبْنَاءِہٖ وَ حَـفَـدَتِـہٖ۔وَ لَہٗ اَجْـرٌ عَـظِیْمٌ۔کَأَجْـرِ اِبْـرَاھِیْمَ عِـنْـدَ رَبِّہِ الْکَرِیْمِ۔وَاِلَیْہِ اَشَارَ سَیِّدُنَا الْمُصْطَفٰی۔وَ رَسُـوْلُنَا الْـمُـجْـتَـبٰی۔وَ اِمَـامُ الْمُـتَّـقِـیْنَ۔وَخَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔وَ قَالَ وَ ھُوَ بَعْدَ اللّٰہِ اَصْدَقُ الصَّادِقِیْنَ۔اِنَّ الضَّحَایَا ھِیَ الْمَطَایَـا۔تُوْصِلُ بقیہ ترجمہ۔انسانی پیدائش میں پہنچ سکتا ہے۔پس اس مقام سے غافل مت ہو اے مخلوق کے گروہ۔اور نہ اس بھید سے غافل ہو جو قربانیوںمیں پایا جاتا ہے۔اور قربانیوں کو اس حقیقت کے دیکھنے کے لئے آئینوں کی طرح بنا دو اور ان وصیتوں کو مت بھلاؤ۔اور ان لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جنہوں نے اپنے خدا اور اپنی موت کو بھلا رکھا ہے۔اور اس پوشیدہ بھید کی طرف خدا تعالیٰ کی کلام میں اشارت کی گئی ہے چنانچہ خدا جو اصدق الصادقین ہے اپنے رسول کو فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو کہہ دے کہ میری نماز اور میری عبادت اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اس خدا کے لئے ہے جو پروردگار عالمیاں ہے۔پس دیکھ کہ کیونکر نُـسُک کے لفظ کی حیات اور ممات کے لفظ سے تفسیر کی ہے اور اس تفسیر سے قربانی کی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے پس اے عقل مندو! اس میں غور کرو اور جس نے اپنی قربانی کی حقیقت کو معلوم کر کے قربانی ادا کی اور صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ ادا کی۔پس بہ تحقیق اس نے اپنی جان اور اپنے بیٹوں اور اپنے پوتوں کی قربانی کر دی اور اس کے لئے اجر بزرگ ہے جیسا کہ ابراہیم کے لئے اس کے ربّ کے نزدیک اجر تھا اور اسی کی طرف ہمارے سید برگزیدہ اور رسول برگزیدہ نے جو پرہیزگاروں کا امام اور انبیاء کا خاتم ہے اشارہ کیا اور فرمایا اور وہ خدا کے بعد سب سچوں سے زیادہ تر سچا ہے۔بہ تحقیق قربانیاں وہی سواریاں ہیں کہ جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہیں