تذکرہ — Page 316
۱۱؍اپریل ۱۹۰۰ء بمقام مسجد اقصٰی قادیان ’’ یَا عِبَادَ اللّٰہِ فَکِّرُوْا فِیْ یَـوْمِکُمْ ھٰذَا یَوْمِ الْاَضْـحٰی۔فَاِنَّہٗ اُوْدِعَ اَسْـرَارًا لِاُولِی النُّـھٰی۔وَ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ یُضَحّٰی بِکَثِیْرٍ مِّنَ الْعَـجْمَاوَاتِ۔وَ تُنْحَرُ اٰبَالٌ مِّنَ الْـجِمَالِ وَ خَنَاطِیْلُ مِنَ الْبَقَرَاتِ۔وَ تُذْ بَـحُ اَقَاطِیْعُ مِنَ الْغَنَمِ ابْتِغَاءَ مَرْضَاۃِ رَبِّ الْکَائِنَاتِ۔وَ کَذَالِکَ یُفْعَلُ مِنْ اِبْتِدَآءِ زَمَانِ الْاِسْلَامِ۔اِلٰی ھٰذِہِ الْاَیَّـامِ۔وَ ظَنِّیْ اَنَّ الْاَضَاحِیَ فِیْ شَـرِیْعَتِنَا الْغَرَّاءِ۔قَدْ خَرَجَتْ مِنْ حَدِّ الْاِحْصَاءِ۔وَ فَاقَتْ ضَـحَایَا الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ مِنْ اُ۔مَمِ الْاَنْبِیَآءِ۔وَ بَلَغَتْ کَثْرَۃُ الذَّبَائِـحِ اِلٰی حَدٍّ غُـطِّـیَ بِہٖ وَجْـہُ الْاَرْضِ مِنَ الدِّ مَاءِ۔حَتّٰی لَوْ جُـمِعَتْ دِمَاءُھَا وَ اُرِیْدَ اِجْرَاءُھَا لَـجَرَتْ مِنْـھَا الْاَنْـھَارُ۔وَسَالَتِ الْبِحَارُ وَ فَاضَتِ الْغُدْ۔رُ وَ الْاَوْدِیَۃُ الْکِبَارُ۔وَ قَدْ عُدَّ ھٰذَا الْعَمَلُ فِیْ مِلَّتِنَا مِـمَّا یُقَـرِّبُ اِلَی اللّٰہِ سُـبْحَانَہٗ۔وَ حُسِبَ کَمَطِیْئَۃٍ تُـحَاکِی الْبَرْقَ فِی السَّیْرِ وَ لُمْعَانَہٗ۔فَلِاَجْلِ ذَالِکَ (ترجمہ) اے خدا کے بندو! اپنے اس دن میں کہ جو بقر عید کا دن ہے غور کرو اور سوچو کیونکہ اِن قربانیوں میں عقل مندوں کے لئے بھید پوشیدہ رکھے گئے ہیں۔اور آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ اس دن بہت سے جانور ذبح کئے جاتے ہیں اور کئی گلے اونٹوں کے اور کئی گلے گائیوں کے ذبح کرتے ہیں۔اور کئی ریوڑ بکریوں کے قربانی کرتے ہیں اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے کیا جاتا ہے۔اور اسی طرح زمانۂ اسلام کے ابتدا سے ان دنوں تک کیا جاتا ہے۔اور میرا گمان ہے کہ یہ قربانیاں جو ہماری اس روشن شریعت میں ہوتی ہیں احاطہ شمار سے باہر ہیں۔اور ان کو اُن قربانیوں پر سبقت ہے کہ جو نبیوں کی پہلی امتوں کے لوگ کیاکرتے تھے۔اور قربانیوں کی کثرت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ ان کے خونوں سے زمین کا منہ چھپ گیا ہے۔یہاں تک کہ اگر اُن کے خون جمع کئے جائیں اور اُن کے جاری کرنے کا ارادہ کیا جائے تو البتہ ان سے نہریں جاری ہو جائیں اور دریا بہ نکلیں اور زمین کے تمام نشیبوں اور وادیوں میں خون رواں ہونے لگے۔اور یہ کام ہمارے دین میں ان کاموں میں سے شمار کیا گیا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا موجب ہوتے ہیں اور اُس سواری کی طرح یہ سمجھے گئے ہیں کہ جو اپنی سیر میں بجلی سے مشابہ ہو جس کو بجلی کی چمک سے مماثلت حاصل ہو اور اِسی وجہ سے ان ذبح