تذکرہ — Page 263
حربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا، نہ کند ہوگا جب تک دجّالیّت کو پاش پاش نہ کردے۔وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی سچی توحید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں ملکوں میں پھیلے گی۔اس دن نہ کوئی مصنوعی کفّارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا۔اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی سب تدبیروں کو باطل کردے گا لیکن نہ کسی تلوار سے اور نہ کسی بندوق سے بلکہ مستعد روحوں کو روشنی عطا کرنے سے اور پاک دلوں پر ایک نور اُتارنے سے۔تب یہ باتیں جو مَیں کہتا ہوں سمجھ میں آئیں گی۔‘‘ ( اَلْاِشْتِـھَار مُسْتَیْقِنًا بِوَحْیِ اللّٰہِ الْقَھَّارِ مجموعہ اشتہارات جلد۲ صفحہ ۱۸۲، ۱۸۳ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) یکم فروری ۱۸۹۷ء ’’جب میری لڑکی مبارکہ والدہ کے پیٹ میں تھی تو حساب کی غلطی سے فکر دامن گیر ہوا اور اس کا غم حد سے بڑھ گیا کہ شاید کوئی اور مرض ہو تب مَیں نے جنابِ الٰہی میں دُعا کی تو الہام ہوا کہ آید آں روزے کہ مستخلص شود۱؎ اور مجھے تفہیم ہوئی کہ لڑکی پیدا ہوگی چنانچہ اس کے مطابق ۲۷؍رمضان ۱۳۱۴ ۲؎ھ کو لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام مبارکہ رکھا گیا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۸۰) ۱۸۹۷ء ’’ خدا تعالیٰ نے حمل کے ایام میں ایک لڑکی کی بشارت دی اور اُس کی نسبت فرمایا۔تُنَشَّأُ فِی الْـحِلْیَۃِ۔یعنی زیور میں نشوو نما پائے گی۔یعنی نہ وہ خورد سالی میں فوت ہوگی اور نہ تنگی دیکھے گی۔چنانچہ بعد اس کے لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام مبارکہ بیگم رکھا گیا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۲۲۷) فروری ۱۸۹۷ء (الف) ’’ ایک شخص اہل تشیع میں سے جوا پنے آپ کو شیخ نجفی کے نام سے مشہور کرتا تھا ایک دفعہ لاہور میں آکر ہمارے مقابلہ میں بہت شور مچانے لگا اور نشان کا طلب گار ہوا۔چنانچہ ہم نے باشاعت اشتہار یکم فروری ۱۸۹۷ء اُس کو یہ وعدہ دیا کہ چالیس روز تک تجھے اللہ تعالیٰ کوئی نشان دکھلائے گا۔سو خدا کا احسان ہے کہ ابھی چالیس دن پورے نہ ہوئے تھے کہ نشان ہلاکت لیکھرام پشاوری وقوع میں آگیا۔تب تو شیخ ضال نجفی فوراً لاہور سے بھاگ گیا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۵۸۷) ۱ (ترجمہ از ناشر) وہ دن آرہا ہے کہ وہ تکلیف سے رہائی پائے۔۲ ۲ ؍مارچ ۱۸۹۷ء بروز منگل۔(ناشر)