تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 1089

تذکرہ — Page 242

مَیں نے سورۂ فاتحہ بلند آواز سے نہیں پڑھی بلکہ صرف تکبیر بلند آواز سے کہی پھر جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ محمد حسین ہمارے مقابل پر بیٹھا ہے اور اس وقت مجھے اُس کا سیاہ رنگ معلوم ہوتا ہے اور بالکل برہنہ ہے۔پس مجھے شرم آئی کہ مَیں اُس کی طرف نظر کروں۔پس اُسی حال میں وہ میرے پاس آگیا۔مَیں نے اُسے کہا کہ کیا وقت نہیں آیا کہ تُو صلح کرے اور کیا تُو چاہتا ہے کہ تجھ سے صلح کی جائے۔اُس نےکہا کہ ہاں۔پس وہ بہت نزدیک آیا اور بغل گیر؎۱ہوا اور وہ اس وقت چھوٹے بچہ کی طرح تھا۔پھر مَیں نے کہا کہ اگر تُو چاہے تو ان باتوں سے درگذر کر جو مَیں نے تیرے حق میں کہیں جن سے تجھے دکھ پہنچا۔اور خوب یاد رکھ کہ مَیں نے کچھ نہیں کہا مگر صحت نیت سے اور ہم ڈرتے ہیں خدا کے اس بھاری دن سے جبکہ ہم اس کے سامنے کھڑے ہوں گے اس نے کہا کہ مَیں نے درگذر کی۔تب میں نے کہا کہ گواہ رہ کہ مَیں نے وہ تمام باتیں تجھے بخش دیں جو تیری زبان پر جاری ہوئیں اور تیری تکفیر اور تکذیب کو مَیں نے معاف کیا۔اس کے بعد ہی وہ اپنے اصلی قد پر نظر آیا اور سفید کپڑے نظر آئے۔پھر مَیں نے کہا جیسا کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا آج وہ پورا ہوگیا۔پھر ایک آواز دینے والے نے آواز دی کہ ایک شخص جس کا نام سلطان بیگ ہے جان کُندن میں ہے۔مَیں نے کہا کہ اب عنقریب وہ مرجائے گا کیونکہ مجھے خواب میں دکھلایا گیا ہے کہ اُس کی موت کے دن صلح ہوگی۔پھر مَیں نے محمد حسین کو یہ کہا کہ مَیں نے خواب میں یہ دیکھا تھا کہ صلح کے دن کی یہ نشانی ہے کہ اُس دن بہاؤالدین فوت ہوجائے گا۔محمد حسین نے اِس بات کو سن کر نہایت تعظیم کی نظر سے دیکھا اور ایسا تعجب کیا جیسا کہ ایک شخص ایک واقعہ صحیحہ کی عظمت سے تعجب کرتا ہے اور کہا یہ بالکل سچ ہے اور واقعی بہاؤ الدین فوت ہوگیا۔پھر مَیں نے اس کی دعوت کی اور اُس نے ایک خفیف عُذر کے بعد دعوت کو قبول کرلیا اور پھر مَیں نے اُس کو کہا کہ مَیں نے خواب میں یہ بھی دیکھا تھا کہ صُلح بلاواسطہ ہوگی۔سو جیسا کہ دیکھا تھا ویسا ہی ظہور میں آگیا اور یہ بدھ کا دن اور تاریخ ۱۲؍دسمبر ۱۸۹۴ء تھی۔‘‘ (سراج منیر۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۸۰،۸۱)۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ رؤیا حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں پوری ہوئی چنانچہ حضور فرماتے ہیں۔’’ جب میرا زمانہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے دل میں ندامت پیدا کی۔چنانچہ میں ایک دفعہ بٹالہ گیا تو وہ خود مجھ سے ملنے کے لئے آئے اور مَیں نے دیکھا کہ اُن پر سخت ندامت طاری تھی … پھر اللہ تعالیٰ نے اِس رؤیا کو اس رنگ میں بھی پورا فرما دیا کہ ان کے دو لڑکے تعلیم حاصل کرنے کے لئے قادیان آئے اور انہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی۔‘‘ (الفضل مورخہ ۲۰؍جولائی ۱۹۴۴ء صفحہ ۲)