تذکرہ — Page 2
مُّصَنَّفَاتِیْ۔قُلْتُ یَـا رَسُوْلَ اللّٰہِ کِتَابٌ مِّنْ مُّصَنَّفَاتِیْ۔قَالَ مَا اسْـمُ کِتابِکَ فَنَظَرْتُ اِلَی الْکِتَابِ مَرَّۃً اُخْرٰی وَ اَنَـا کَالْمُتَحَیِّرِیْنَ۔فَوَجَدْتُّہٗ یُشَابِہُ کِتَابًـا کَانَ فِیْ دَارِ کُتُبِیْ وَاسْـمُہٗ قُطْبِیٌّ قُلْتُ یَـا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِسْـمُہٗ قُطْبِیٌّ۔قَالَ اَرِنِیْ کِتَا۔بَکَ الْقُطْبِیَّ فَلَمَّا اَخَذَہٗ وَ مَسَّتْہُ یَدُہٗ فَاِذَا ھِیَ ثَـمَرَۃٌ لَّطِیْفَۃٌ تَسُـرُّ النَّاظِرِیْنَ۔فَشَقَّقَھَا کَمَایُشَقَّقُ الثَّمَرُ فَـخَرَجَ مِنْـھَاعَسَلٌ مُّصَفًّی کَمَآءٍ مَّعِیْنٍ۔وَرَاَیْتُ بِلَّۃَ الْعَسَلِ عَلٰی یَدِہِ الْیُمْنٰی مِنَ الْبَنَانِ اِلَی الْمِرْفَقِ کَانَ الْعَسَلُ یَتَقَاطَرُ مِنْـھَا۔وَ کَاَنَّہٗ یُرِیْنِیْ اِیَّاہُ لِیَجْعَلَنِیْ مِنَ الْمُتَعَجِّبِیْنَ۔ثُمَّ اُلْقِیَ فِیْ قَلْبِیْ اَنَّ عِنْدَ اُسْکُفَّۃِ الْبِیْتِ مَیِّتٌ قَدَّرَاللّٰہُ اِحْیَآءَہٗ بِـھٰذِہِ الثَّمَرَۃِ وَقَدَّ۔رَ اَنْ یَّکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُحْیِیْنَ۔فَبَیْنَـمَا اَنَـا فِیْ ذٰلِکَ الْـخَیَالِ فَاِذَاالْمَیِّتُ جَآءَ نِیْ حَیًّا وَّ ھُوَ یَسْعٰی وَقَامَ وَرَآءَ ظَھْرِیْ وَفِیْہِ ضُعْفٌ کَاَنَّہٗ مِنَ الْجَآئِعِیْنَ۔فَنَظَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَیَّ مُتَبَسِّمًا وَّ جَعَلَ الثَّمَرَۃَ قِطْعَاتٍ وَّاَکَلَ قِطْعَۃً مِّنْھَا وَ اٰتَـانِیْ کُلَّ مَا بَقِیَ وَالْعَسَلُ یَـجْرِیْ مِنَ الْقِطْعَاتِ کُلِّھَا وَ قَالَ یَـا اَحْـمَدُ اَعْطِہٖ قِطْعَۃً مِّنْ ھٰذِہٖ لِیَاْکُلَ وَیَتَقَوّٰی بقیہ ترجمہ۔میں نے عرض کیا۔حضورؐ یہ میری ایک تصنیف ہے۔آپؐ نے پوچھا اس کتاب کا کیا نام ہے۔تب میں نے حیران ہوکر کتاب کو دوبارہ دیکھا تو اسے اس کتاب کے مشابہ پایا جو میرے کتب خانہ میں تھی اور جس کا نام قطبی ہے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس کا نام قطبی ہے۔فرمایا اپنی یہ کتاب قطبی مجھے دکھا۔جب حضور ؐ نے اسے لیا تو حضورؐ کا مبارک ہاتھ لگتے ہی وہ ایک لطیف پھل بن گیاجو دیکھنے والوں کے لئے پسندیدہ تھا۔جب حضورؐ نے اسے چیرا جیسے پھلوں کو چیرتے ہیں تو اس سے بہتے پانی کی طرح مصفّا شہد نکلا اور میں نے شہد کی طراوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے ہاتھ پر انگلیوں سے کہنیوں تک دیکھی اور شہد حضورؐ کے ہاتھ سے ٹپک رہا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گویا مجھے اس لئے وہ دکھا رہے ہیں تا مجھے تعجب میں ڈالیں۔پھر میرے دل میں ڈالا گیا کہ دروازے کی چوکھٹ کے پاس ایک مردہ پڑا ہے جس کا زندہ ہونا اللہ تعالیٰ نے اس پھل کے ذریعہ مقدر کیا ہوا ہے اور یہی مقدر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو زندگی عطا کریں۔مَیں اِسی خیال میں تھا کہ دیکھا کہ اچانک وہ مُردہ زندہ ہوکر دوڑتا ہوا میرے پاس آگیا اور میرے پیچھے کھڑا ہوگیا مگر اس میں کچھ کمزوری تھی گویا وہ بھوکا تھا تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور اس پھل کے ٹکڑے کئے اور ایک ٹکڑا ان میں سے حضورؐ نے خود کھایا اور باقی سب مجھے دے دیئے ان سب ٹکڑوں سے شہد بہہ رہا تھا۔اور فرمایا۔اے احمد اس مُردہ کو ایک ٹکڑا دے دو تا اسے کھا کر قوت پائے۔