تذکرہ — Page 1
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْـحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مُـحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَاَصْـحَابِہٖ اَجْـمَعِیْنَ یعنی وحی مقدّس و رؤیا و کشوف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام زمانہ تحصیلِ علم (الف؎۱) ’’ رَأَیْتُ ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَّ اَنَـا غُلَامٌ حَدِیْثُ السِّنِّ کَاَنِّیْ فِیْ بَیْتٍ لَطِیْفٍ نَّظِیْفٍ یُذْکَرُ فِیْـھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔فَقُلْتُ اَیُّـھَاالنَّاسُ اَیْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔فَاَشَارُوْا اِلٰی حُـجْرَۃٍ۔فَدَخَلْتُ مَعَ الدَّاخِلِیْنَ۔فَبَشَّ بِیْ حِیْنَ وَافَیْتُہٗ۔وَحَیَّانِیْ بِاَحْسَنِ مَاحَیَّیْتُہٗ۔وَ مَا اَنْسٰی حُسْنَہٗ وَجَـمَالَہٗ وَمَلَاحَتَہٗ وَتَـحَنُّنَہٗ اِلٰی یَوْمِیْ ھٰذَا۔شَغَفَنِیْ حُبًّا وَّ جَذَبَـنِیْ بِوَجْہٍ حَسِیْنٍ۔قَالَ مَا ھٰذَا بِیَمِیْنِکَ یَـا اَحْـمَدُ۔فَنَظَرْتُ فَاِذَا کِتَابٌ بِیَدِی الْیُمْنٰی وَخَطَرَ بِقَلْبِیْ اَنَّہٗ مِنْ ۱؎ (ترجمہ از مرتّب) اوائل ایّامِ جوانی میں ایک رات میں نے (رؤیا میں) دیکھا کہ میں ایک عالی شان مکان میں ہوں جو نہایت پاک اور صاف ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور چرچا ہورہا ہے۔میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ حضورؐ کہاں تشریف فرما ہیں۔انہوں نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا۔چنانچہ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اُس کے اندر چلا گیا اور جب میں حضورؐ کی خدمت میں پہنچا تو حضورؐ بہت خوش ہوئے اور آپؐ نے مجھے بہتر طور پر میرے سلام کا جواب دیا۔آپؐ کا حسن و جمال اور ملاحت اور آپؐ کی پُر شفقت و پُر محبت نگاہ مجھے اب تک یاد ہے اور وہ مجھے کبھی بھول نہیں سکتی۔آپؐ کی محبت نے مجھے فریفتہ کرلیا اور آپؐ کے حسین و جمیل چہرہ نے مجھے اپنا گرویدہ بنالیا۔اس وقت آپؐ نے مجھے فرمایا کہ اے احمد تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا چیز ہے۔جب میں نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے اور وہ مجھے اپنی ہی ایک تصنیف معلوم ہوئی۔