تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 1089

تذکرہ — Page 198

خَارِجِھَا بِالطِّیْنِ۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ۵۵۲ تا ۵۵۵) ۱۸۹۳ء ’’رَاَیْتُ فِیْـھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَارَاَیْتُہٗ فِیْ مُسْتَطْرِفِ الْاَیَّامِ فَـجَعَلَنِیْ کَالْعِرْدَامِ وَاَعَدَّ نِیْ لِلْاِصْلِخْمَامِ لِاُحَارِبَ الْفَرَاعِنَۃَ وَ الظَّالِمِیْنَ۔‘‘ ۱؎ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۵۶۱) ۱۸۹۳ء ’’وَ ھَنَّأَنِیْ رَبِّیْ وَقَالَ۔اِنَّا مُھْلِکُوْا بَعْلِھَا کَمَآ اَھْلَکْنَا اَبَاھَا وَ رَآدُّوْھَا اِلَیْکَ۔اَلْـحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۔وَمَا نُـؤَخِرُّہٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ۔قُلْ تَـرَبَّصُوا الْاَجَلَ وَ اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُتَـرَ۔بَّصِیْنَ۔وَ اِذَا جَآءَ وَعْدُالْـحَقِّ اَھٰذَا الَّذِیْ کَذَّ بْـتُمْ بِہٖ اَمْ کُنْتُمْ عَـمِیْنَ۔‘‘ ۲؎ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۵۷۶) ۱۸۹۳ء (الف) ’’ وَ؎۳ رَاَیْتُ فِی الْمَنَامِ کَاَنِّیْ اَسْـرَجْتُ جَـوَادِیْ لِبَعْضِ مُرَادِیْ وَ مَآ اَدْرِیْ اَیْـنَ تَـاَھُّبِیْ وَ اَیُّ اَمْرٍ مَطْلَبِیْ۔وَکُنْتُ اُحِسُّ فِیْ قَلْبِیْ اَنَّنِیْ لِاَمْرٍ مِّنَ الْمَشْغُوْفِیْنَ۔بقیہ ترجمہ۔مقدار اور مضبوطی میں ایک جیسی ہوں اور ان کو باہم ملا کر اور باہر سے لیپ کر ایک کردیا گیاہو۔۱ (ترجمہ از مرتّب) انہی ایام میں مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اس سے پہلے بھی قریب عرصہ میں مجھے آپ کی زیارت ہوچکی تھی۔آپ نے مجھے اپنا چابک بنایا اور مجھے مقابلہ کے لئے تیار کیا تاکہ مَیں فرعونی سیرت لوگوں اور ظالموں سے جنگ کروں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) اور میرے ربّ نے مجھے مبارکباد دی اور فرمایا۔ہم اس کے خاوند کو (بھی) ہلاک کریں گے جیسا کہ ہم نے اس کے باپ کو ہلاک کیا اوراس (لڑکی) کو تیری طرف لوٹائیں گے۔تیرے ربّ کی طرف سے (یہ) سچ ہے۔پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔اور ہم اسے صرف گنتی کی مدّت کے لئے تاخیر کریں گے۔کہہ اس عرصہ کی انتظار کرو اور مَیں (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔اور جب خدا کا وعدہ آئے گا (تب کہا جائے گا) کیا یہ وہی ہے جس کو تم نے جھٹلا یا تھا یا تم اندھے تھے۔۳ (ترجمہ از مرتّب) اور (ایک مرتبہ) مَیں نے خواب میں دیکھا کہ گویا مَیں نے کسی مقصد کے لئے جانے کی غرض سے اپنے گھوڑے پر زین ڈالی ہے اور یہ بات مَیں نہیں جانتا تھا کہ کدھر اور کس مقصد کے لئے جانے کی تیاری کررہا ہوں۔ہاں مَیں اپنے دل میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ مَیں کسی خاص بات کے شغف اور اشتیاق کی و جہ سے یہ تیاری کررہا ہوں اور مَیںنے