تذکرہ — Page 182
کا حلیہ پہچانتا ہوں۔وہ لاغر اندام اور سفید ریش ہے۔اُس نے میرےاُس بیان میں دخل بے جادے کرکہا کہ یہ باتیں کنہ باری میں دخل ہے اور کنہ باری میں گفتگو کرنے کی ممانعت ہے۔تو میں نے کہا کہ اے نادان اِن بیانوں کو کنہ باری سے کچھ تعلق نہیں۔یہ معارف ہیں اور مَیں نے اُس کے بے جا دخل سے دل میں بہت رنج کیا اور کوشش کی کہ وہ چپ رہے مگر وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آیا۔تب میرا غصہ بھڑکا اور مَیں نے کہا کہ اِس زمانہ کے بدذات مولوی شرارتوں سے باز نہیں آتے۔خدا اُن کی پردہ دری کرے گا اور ایسے ہی چند الفاظ اور بھی کہے جو اَب مجھے یاد نہیں رہے۔تب مَیں نے اِس کے بعد کہا کہ کوئی ہے کہ اِس مولوی کو اِس مجلس سے باہر نکالے تو میرے ملازم حامد علی نام کی صورت پر ایک شخص نظر آیا۔اُس نے اُٹھتے ہی اِس مولوی کو پکڑ لیا اور دھکّے دے کر اُس کو اُس مجلس سے باہر نکالا اور زینہ کے نیچے اوتار دیا۔تب مَیں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری جماعت کے قریب ایک وسیع چبوترہ پر کھڑے ہیں اور یہ بھی گمان گذرتا ہے کہ چہل قدمی کر رہے ہیں اورمعلوم ہوتا ہے کہ جب مولوی کو نکالا گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُسی جگہ کے۱؎ ہی کھڑے تھے مگر اُس وقت نظر اُٹھا کر دیکھا نہیں۔اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کتاب آئینہ کمالات ِ اسلام ہے یعنی یہی کتاب اور یہ مقام جو اُس وقت چھپا ہوا معلوم ہوتا ہے اور آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشت ِ مبارک اُس مقام پر رکھی ہوئی ہے کہ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محامدِ مبارکہ کا ذکر اور آپؐ کی پاک اور پُر اثر اور اعلیٰ تعلیم کا بیان ہے اور ایک انگشت اُس مقام پر بھی رکھی ہوئی ہے کہ جہاں صحابہ رضی اللہ عنہم کے کمالات اور صدق و وفا کا بیان ہے اور آپؐ تبسّم فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ھٰذَا لِیْ وَھٰذَا لِاَصْـحَابِیْ یعنی یہ تعریف میرے لئے ہے اور یہ میرے اصحاب کے لئے۔اور پھر بعد اس کے خواب سے الہام کی طرف میری طبیعت متنزّل ہوئی اور کشفی حالت پیدا ہوگئی تو کشفاً میرے پر ظاہر کیا گیا کہ اِس مقام میں جو خدا تعالیٰ کی تعریف ہے، اُس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا ظاہر کی اور پھر اُس کی نسبت یہ الہام ہوا کہ ھٰذَا الثَّنَآءُ لِیْ ؎۲اور یہ رات منگل کی تھی اور تین بجے پر پندرہ منٹ ۱ ’’کے ‘‘ کے بعد کاتب سے یہاں لفظ ’’قریب‘‘ چھٹ گیا ہے۔(ناشر) ۲ (ترجمہ ازمرتّب) یہ تعریف میرے لئے ہے۔