تذکرہ — Page 172
اَنَـا الْفَتَّاحُ اَفْتَحُ لَکَ۔۲۔تَرٰی نَصْـرًا عَـجِیْبًا وَّ یَـخِرُّوْنَ عَلَی الْمَسَاجِدِ۔۳۔رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا اِنَّـا کُنَّا خَاطِئِیْنَ۔۴۔جَلَابِیْبُ الصِّدْ۔قِ۔۵۔فَاسْتَقِمْ کَمَا اُمِرْتَ۔۶۔اَلْـخَوَارِقُ تَـحْتَ مُنْتَہٰی صِدْ۔قِ الْاَقْدَامِ۔۷کُنْ لِـلّٰہِ جَـمِیْعًا وَّ مَعَ اللّٰہِ جَـمِیْعًا۔۸۔عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّـحْمُوْدًا۔یعنی ۱میں فتّاح ہوں تجھے فتح دوں گا۔۲۔ایک عجیب مدد تو دیکھے گا اور منکر یعنی بعض اُن کے جن کی قسمت میں ہدایت مقدّر ہے اپنے سجدہ گاہوں پر گریں گے ۳۔یہ کہتے ہوئے کہ اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش۔ہم خطا پر تھے۔۴۔یہ صدق کے جلابیب ہیں جو ظاہر ہوں گے۔۵۔سو جیسا کہ تجھے حکم کیا گیا ہے استقامت اختیار کر۔۶۔خوارق یعنی کرامات اُس محل پر ظاہر ہوتی ہیں جو انتہائی درجہ صدق اقدام کا ہے۔۷۔تو سارا خدا کے لئے ہوجا۔تو سارا خدا کے ساتھ ہوجا۔۸۔خدا تجھے اُس مقام پر اُٹھائے گا جس میں تُو تعریف کیا جائے گا۔‘‘ (آسمانی فیصلہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۴۲) ۱۸۹۱ء ’’ ایک الہام میں چند دفعہ تکرار اور کسی قدراختلافِ الفاظ کے ساتھ فرمایا کہ ’’میں تجھے عزت دُوں گا اور بڑھاؤں گا اور تیرے آثار میں برکت رکھ دوں گا۔یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔‘‘ (آسمانی فیصلہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۴۲) (آسمانی فیصلہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۵۰) ۱۸۹۲ء ’’دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی سخت عارضہ ہوتا ہے تو خداوند کریم اپنی طرف سے شفا بخشتا ہے۔۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ اعداد اور ان کے اندر کی چابی سب الہام کا حصّہ ہیں جس کی حقیقت خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے مگر انشاء اللہ العزیز اپنے وقت پر ضرور ظاہر ہوگی۔(نوٹ از ناشر) ان اعداد کا اصل عکس یہ ہے۔