تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 1089

تذکرہ — Page 159

یعنی وہ کُتّا ہے اور کُتّے کے عدد پر مرے گا جو باون ۵۲ سال پر دلالت کررہے ہیں۔یعنی اس کی عمر باون ۵۲ سال سے تجاوز نہیں کرے گی جب باون سال کے اندر قدم دھرے گا تب اُسی سال کے اندر اندر راہیِ مُلکِ بقا ہوگا۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳صفحہ ۱۹۰) ۱۸۹۱ء ’’ابھی تھوڑے دن گذرے ہیں کہ ایک مدقوق اور قریب الموت انسان مجھے دکھائی دیا اور اُس نے ظاہر کیا کہ میرا نام دین محمد ہے اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ دین محمدی ہے جو مجسّم ہو کر نظر آیا ہے اور میں نے اس کو تسلّی دی کہ تو میرے ہاتھ سے شفا پا جائے گا۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۲۰۶) ۱۸۹۱ء ’’اور یہ جو میں نے مسمریزمی طریق کا عمل الترب؎۱نام رکھا جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) تِرب کے معنی لغت میں ہم عمر یا مثیل کے لکھے ہیں مگر اس لفظ میں تُراب کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔’’وَاَمَّا التُّرَابُ فَاعْلَمْ اَنَّ ھٰذَا اللَّفْظُ مَأْخُـوْذٌ مِّنْ لَفْظِ التِّرْبِ۔وَ تِرْبُ الشَّیْءِ الَّذِیْ خُلِقَ مَعَ ذَالِکَ الشَّیْءِ عِنْدَ اَھْلِ الْعَـرَبِ۔وَ قَالَ ثَعْلَبٌ تِرْبُ الشَّیْءِ مِثْلُہٗ وَمَا شَا۔بَہَ شَیْئًا فِی الْـحُسْنِ وَالْبَھَآءِ۔فَعَلٰی ھٰذَیْنِ الْمَعْنَیَیْنِ سُـمِّیَ التُّرَابُ تُـرَابًـا لِکَوْنِـھَافِیْ خَلْقِھَا تِرْبُ السَّمَآءِ۔فَاِنَّ الْاَرْضَ خُلِقَتْ مَعَ السَّمَآءِ فِیْ اِبْتِدَاءِ الزَّمَانِ۔وَتَشَابُـھًا فِیْ اَ نْوَاعِ صُنْعِ اللّٰہِ الْمَنَّانِ۔‘‘ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱۱صفحہ ۲۶۲،۲۶۳ حاشیہ) (ترجمہ از مرتّب) ’’لفظ تُـرَاب تِرْب سے ماخوذ ہے اور عربوں کے نزدیک تِرْبُ الشَّیْءِ کے معنی ہیں وہ چیز جو اس کے ساتھ پیدا ہو اور ثعلبؔ کا قول ہے کہ کسی چیز کی تِرب وہ ہے جو خوبی میں اس کی مانند ہو۔پس ان دونوں معنوں کی رُو سے مٹی کا نام تُراب اس لئے رکھا گیا کہ وہ پیدائش میں آسمان کی ہم عمر یا مثیل ہے کیونکہ زمین ابتدائی زمانہ میں آسمان کے ساتھ ہی پیدا ہوئی ہے اور وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی صنعت کے اقسام میں مشابہ ہیں۔‘‘ پس اس رُو سے وحی الٰہی میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ علم زمینی ہے نہ کہ آسمانی۔اسے وہی لوگ استعمال کرتے ہیں جو رُوحانیت سے کم حصّہ رکھتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔’’ اولیاء اور اہل سلوک کی تواریخ اور سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں مگر بعض لوگ اپنی ولایت کا ایک ثبوت بنانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان مشغلوں میں مبتلا ہوگئے تھے۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳۔صفحہ ۲۵۷ حاشیہ)