تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 1089

تذکرہ — Page 110

یہ تجویز نہ اپنے فکر و اجتہا دسے قرار پائی ہے بلکہ حضرت مولیٰ کریم کی طرف سے اس کی اجازت ہوئی ہے اور بطور پیشگوئی یہ بشارت ملی ہے کہ اس خط کے مخاطب (جو خط پہنچنے پر رجوع بحق نہ کریں گے) ملزم و لاجواب و مغلوب ہوجائیں گے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۳۰،۳۱ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۶؍اپریل ۱۸۸۵ء ’’آج اسی وقت میں نے خواب دیکھا ہے کہ کسی ابتلاء میں پڑا ہوں اور میں نے اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّـآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہا اور جو شخص سرکاری طور پر مجھ سے مؤاخذہ کرتا ہے میں نے اُس کو کہا کیا مجھ کو قید کریں گے یا قتل کریں گے۔اس نے کچھ ایسا کہا کہ انتظام یہ ہوا ہےکہ گرایا جائے گا۔مَیں نے کہا کہ میں اپنے خداوند تعالیٰ جلّ شانہٗ کے تصرّف میں ہوں۔جہاں مجھ کو بٹھائے گا بیٹھ جاؤں گا اور جہاں مجھ کو کھڑا کرے گا کھڑا ہوجاؤں گا اور یہ الہام ہوا۔یَدْعُوْنَ لَکَ اَ بْدَالُ الشَّامِ وَعِبَادُ اللّٰہِ مِنَ الْعَرَبِ یعنی تیرے لئے ابدال شام کے دُعا کرتے ہیں اور بندے خدا کے عرب میں سے دُعا کرتے ہیں۔خدا جانے یہ کیا معاملہ ہے اور کب اور کیوں کر اس؎۱کا ظہور ہو۔وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمد جلد۱ صفحہ۶۰۷،۶۰۸ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۵ء ’’ایک مرتبہ مجھے یا دہے کہ میں نے عالمِ کشف میں دیکھا؎۲کہ بعض احکام قضاء و قدر مَیں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں کہ آئندہ زمانہ میں ایسا ہوگا اور پھر اُس کو دستخط کرانے کے لئے خداوند ِ قادرِ مطلق جلّ شانہٗ کے سامنے پیش کیا ہے (اور یاد رکھنا چاہیے کہ مکاشفات اوررؤیاصالحہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعض صفاتِ جمالیہ یا جلالیہ الٰہیہ انسان کی شکل پر متمثل ہوکر صاحبِ کشف کو نظر آجاتے ہیں اور مجازی طور پر وہ یہی ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) آج خطۂ شام اور ملک عرب اس الہام کی تصدیقی شہادت بصدائے عام کررہا ہے اور آج وہاں سلسلہ کی کئی جماعتیں قائم ہوگئی ہیں جو حضور اقدس کے کام میں ہاتھ بٹاتیں اور حضور پر درود اور سلام بھیجتی ہیں۔۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمد ؓ) اس واقعہ کے متعلق حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری رضی اللہ عنہ کی روایت جو انہوں نے شہادت کے طور پر اخبار الفضل جلد ۴ نمبر۲۴مورخہ۲۶؍ ستمبر۱۹۱۶ء میں شائع کرائی تھی درج ذیل ہے۔’’رمضان شریف میں یہ عاجز حاضر خدمت سراپا برکت تھا کہ آخری عشرہ میں ۲۷؍تاریخ کو جمعہ تھا۔اس جمعہ کی صبح کی نماز پڑھ کر حضرت اقدس حسب معمول حجرہ مذکور (یعنی مسجد مبارک کے ساتھ مشرق والا چھوٹا حجرہ) میں جاکر چارپائی پر لیٹ گئے اور یہ عاجز پاس بیٹھ کر حسب معمول پاؤں مبارک دبانے لگ گیا حتیٰ کہ آفتاب نکل آیا اور حجرہ میں بھی روشنی ہوگئی۔