تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 1089

تذکرہ — Page 93

مُبَارِکٌ وَّ مُبَارَکٌ وَّکُلُّ اَمْرٍ مُّبَارَکٍ یُّـجْعَلُ فِیْہِ۔یعنی یہ مسجد برکت دہندہ اور برکت یافتہ ہے اور ہر یک امر مبارک اِس میں کیا جائے گا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱، ۶۶۵ تا ۶۶۷ حاشیہ در حاشیہ نمبر۴) ۱۸۸۳ء ’’پھر بعد اس کے اس عاجز کی نسبت فرمایا۔۱ رُفِعْتَ وَجُعِلْتَ مُبَارَکًا۔۱تو اونچا کیا گیا اور مبارک بنایا گیا۔۲۔وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْـمَا نَـھُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَھُمُ الْاَ مْنُ وَ ھُمْ مُّھْتَدُوْنَ۔یعنی ۲جو لوگ اُن برکات و انوار پر ایمان لائیں گے کہ جو تجھ کو خدائے تعالیٰ نے عطا کئے ہیں اور ایمان اُن کا خالص اور وفاداری سے ہوگا تو ضلالت کی راہوں سے امن میں آجائیں گے اور وہی ہیں جو خدا کے نزدیک ہدایت یافتہ ہیں۔۳ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ۔۴ قُلِ اللّٰہُ حَافِظُہٗ۔۵ عِنَایَۃُ اللّٰہِ حَافِظُکَ۔۶ نَـحْنُ نَزَّلْنَاہُ وَاِنَّا لَہٗ لَـحَافِظُوْنَ۔۷اَللّٰہُ خَیْرٌحَافِظًا وَّ ھُوَ اَرْحَـمُ الرَّاحِـمِیْنَ۔۸ وَیُـخَوِّفُوْنَکَ مِنْ دُوْنِہٖ۔۹ اَئِـمَّۃُ الْکُفْرِ۔۱۰۔لَا تَـخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی۔۱۱۔یَنْصُـرُکَ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ۔۱۲۔اِنَّ یَوْمِیْ لَفَصْلٌ عَظِیْمٌ۔۱۳کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَـا وَرُسُلِیْ۔۱۴۔لَا مُبَدِّ۔لَ لِکَلِمَاتِہٖ۔۱۵۔بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ۔۱۶۔نَصَـرْتُکَ مِنْ لَّدُ۔نِّیْ۔۱۷۔اِنِّیْ مُنَجِّیْکَ مِنَ الْغَمِّ۔۱۸۔وَکَانَ رَبُّکَ قَدِ۔یْرًا۔۱۹۔اَنْتَ مَعِیْ وَ اَنَـا مَعَکَ۔۲۰۔خَلَقْتُ لَکَ لَیْلًا وَّنَـھَارًا۔۲۱۔اِعْـمَلْ مَاشِئْتَ فَاِنِّیْ قَدْ غَفَرْتُ لَکَ۔۲۲۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُھَا الْـخَلْقُ۔۳مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ تا خدا کے نور کو بُجھا دیں۔۴کہہ خدا اُس نورکا آپ حافظ ہے۔۵عنایت الٰہیہ تیری نگہبان ہے۔۶ہم نے؎۱ اُتارا ہے اور ہم ہی محافظ ہیں۔۷خدا خیرالحافظین ہے اور وہ ارحم الراحمین ہے ۸اور تجھ کو اَور اَور چیزوں سے ڈرائیں گے۔۹یہی پیشوایانِ کفر ہیں۔۱۰مت خوف کر تجھی کو غلبہ ہے۔یعنی حجّت اور بر ہان اور قبولیت اور برکت کے رُو سے تُو ہی غالب ہے۔۱۱خدا کئی میدانوںمیں تیری مدد کرے گا یعنی مناظرات و مجادلات بحث میں تجھ کو غلبہ رہے گا۔پھرفرمایا کہ ۱۲میرا دن حق اور باطل میں فرق بیّن کرے گا۔۱۳خدا لکھ چکا ہے کہ غلبہ مجھ کو اور میرے رسولوں کو ہے۔۱۴کوئی نہیں کہ جو خدا کی باتوں کو ٹال دے۔۱۵یہ خدا کے کام دین کی سچائی کے لئے حجّت ہیں۔۱ سہو کاتب سے لفظ ’’اس کو‘‘ ترجمہ سے رہ گیا ہے۔(عبد اللطیف بہاولپوری)