تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 1089

تذکرہ — Page 90

اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔۲۔ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔۱۔اے عیسیٰ؎۱میں تجھے کامل اجر بخشوں گا۔یا وفات دوں گا اور اپنی طرف اُٹھاؤں گا یعنی رفع درجات کروں گا۔یا دنیا سے اپنی طرف اُٹھاؤں گا۔منکروں کے ہر ایک الزام اور تہمت سے تیرا دامن پاک کردوں گا اور تیرے تابعین کو اُن پر جو منکر ہیں قیامت تک غلبہ بخشوں گا یعنی تیرے ہم عقیدہ اور ہم مشربوں کو حجت اور برہان اور برکات کے رو سے دوسرے لوگوں پر قیامت تک فائق رکھوں گا۔۲۔پہلوں میں سے بھی ایک گروہ ہے اور پچھلوں میں سے بھی ایک گروہ ؎۲ہے۔اس جگہ عیسیٰ کے نام سے بھی یہی عاجز مراد ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۶۴، ۶۶۵ حاشیہ در حاشیہ نمبر۴) ۱۸۸۳ء ( ا لف) ’’ اور پھر بعد اِس کے اُردو میں الہام فرمایا۔میں اپنی چمکار؎۳ دکھلاؤں گا۔اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کردے گا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۶۵ حاشیہ در حاشیہ نمبر۴) (ب) ’’ دنیا میں ایک نذیر آیا۔اس کی دوسری قراءت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔‘‘ (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۷) (ج) ’’دنیا میں ایک نبی آیا مگر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا۔‘‘ نوٹ۔’’ ایک قراءت اس الہام میں یہ بھی ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا اور یہی قراءت براہین میں درج ہے اور فتنہ سے بچنے کے لئے یہ ۱ اس کے متعلق دیکھیے حاشیہ نمبر۱ صفحہ ۸۴۔(مرزا بشیر احمد) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یعنی اس سلسلہ میں داخل ہونے والے دو۲ فریق ہوں گے۔ایک پرانے مسلمان جن کا نام اوّلین رکھا گیا جواب تک تین لاکھ کے قریب اس سلسلہ میں داخل ہوچکے ہیں اور دوسرے نئے مسلمان جو دوسری قوموں میں سے اسلام میں داخل ہوں گے یعنی ہندوؤں اور سکّھوں اور یورپ اور امریکہ کے عیسائیوں میں سے۔اور وہ بھی ایک گروہ اس سلسلہ میں داخل ہوچکا ہے اور ہوتے جاتے ہیں۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۰۸) ۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ وہی چمکار ہے جو کوہِ طور کی چمکار سے مشابہت رکھتی ہے اور اس سے مراد جلالی معجزات ہیں جیسا کہ کوہِ طور پر بنی اسرائیل کو جلالی معجزات دکھائے گئے تھے۔‘‘ (چشمۂ معرفت۔روحانی خزائن جلد۲۳ صفحہ ۳۹۸)